خلیج اردو
دبئی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے صدارتی دور کا پہلا بین الاقوامی دورہ مشرق وسطیٰ سے شروع کر رہے ہیں، جسے تجزیہ کار "تاریخی دورہ” قرار دے رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران ٹرمپ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات جائیں گے، جہاں انہیں سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے نئے مواقع کی تلاش ہے۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز (ایف ڈی ڈی) کے محقق حسین عبدالحسین نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدور عموماً کینیڈا، فرانس، برطانیہ یا میکسیکو جیسے قریبی اتحادی ممالک کو اپنے پہلے دورے کے لیے منتخب کرتے ہیں، لیکن خلیجی ممالک کا انتخاب امریکی نقطہ نظر سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس دورے کا مقصد امریکہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
دبئی میں مقیم ایرانی نژاد امریکی ماہر عالمی امور اور ‘ہیلمٹ ٹو ہیلز’ پلیٹ فارم کی بانی سوزین کیان پور نے کہا کہ یہ اقدام ٹرمپ کی ‘ڈیل میکر’ کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ سفارتی نزاکتوں سے زیادہ ایسے معاہدوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو امریکہ اور خلیجی ممالک دونوں کے لیے کاروباری فوائد لے کر آئیں۔
سوزین کے مطابق داماک کی جانب سے امریکی ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری اور ابوظہبی میں ڈزنی پارک جیسے منصوبے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے لیے یہ سب ‘دی آرٹ آف دی ڈیل’ کا مظاہرہ ہے۔
نئے اعلانات کی تیاری
حسین عبدالحسین کے مطابق ٹرمپ کے ریاض، دوحہ اور ابوظہبی کے دوروں کے دوران ہر ملک کی جانب سے اقتصادی نوعیت کے اعلانات متوقع ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب پہلے ہی امریکہ میں 500 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حساس مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی فروخت پر استثنیٰ دیے جانے کا بھی امکان ہے، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو، جہاں یہ معاہدے اربوں ڈالر کے ہوں گے۔
اس سال مارچ میں یو اے ای نے امریکہ میں 10 سال کے دوران 1.4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جب قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زاید النہیان نے ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔
سوزین کا کہنا تھا کہ اس دورے کے ذریعے ٹرمپ اپنے پہلے صدارتی دور میں قائم کیے گئے تعلقات کو پھر سے مضبوط بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، "وہ میگا سرمایہ کاریوں کی تصدیق کے لیے آ رہے ہیں اور امریکہ میں ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ قطر کی ثالثی سے ایک اسرائیلی نژاد امریکی یرغمالی کی رہائی کو بھی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کریں گے، جبکہ ٹرمپ برانڈ ریزورٹس، صاف توانائی شراکت داری، بحیرہ احمر کی سیکیورٹی اور ایران کے ساتھ سخت تر معاہدے جیسے موضوعات بھی ایجنڈے پر ہوں گے۔
جی سی سی امریکی سربراہی اجلاس اہم سنگ میل
سعودی عرب میں ٹرمپ کے قیام کے دوران ایک خلیج-امریکہ سربراہی اجلاس بھی ہو گا، جس میں دیگر خلیجی ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ حسین عبدالحسین کے مطابق اس اجلاس کے دوران ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس میں غزہ، لبنان اور ایران جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔
سوزین نے کہا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر ابراہیم معاہدے کے اگلے مرحلے کو بھی آگے بڑھائیں گے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کو اس معاہدے میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی، جو ان کی پہلی صدارتی مدت کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی تھی۔







