خلیج اردو
ریاض، 13 مئی 2025:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاض پہنچ گئے جہاں شاہی محل میں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ صدر ٹرمپ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس کا انہوں نے معائنہ بھی کیا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیا۔
صدر ٹرمپ خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے جبکہ اپنے دورے کے دوران وہ قطر اور متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کریں گے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ نے اسرائیلی قیادت میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو سائیڈ لائن کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ صیہونی میڈیا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں عرب ریاستوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں جبکہ ان کا اسرائیل کا کوئی دورہ شیڈول میں شامل نہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے امریکی یہودیوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو بائیڈن کو ووٹ دینے والے یہودیوں کو اپنے عمل پر شرم آنی چاہیے کیونکہ وہ اسرائیل کے مفادات کو ترک کر رہے ہیں۔ تاہم اب صدر ٹرمپ خود اسرائیل کو پس منظر میں دھکیل رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کروانے کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں بلکہ ایران کے سویلین جوہری پروگرام پر بھی نرمی برت رہے ہیں جو اسرائیلی حکام کے لیے باعث تشویش ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں ٹرمپ کی پالیسی پر طنزیہ کارٹون بھی شائع ہوا جس میں ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے لیے سوپ پکا رہے ہیں اور نیتن یاہو حیرانی سے پیچھے بیٹھے ہیں۔
مزید برآں، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اعتراف کیا ہے کہ واشنگٹن نے امریکی نژاد اسرائیلی یرغمالی ایڈن الیگزینڈر کی رہائی کے حوالے سے اسرائیلی حکام کو بعد میں مطلع کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کی عکاسی ہوتی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان نہ صرف ترجیحات بدل رہی ہیں بلکہ طرزِ فکر میں بھی نمایاں فرق آ چکا ہے، جو مستقبل میں خطے کی سیاست میں بنیادی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔







