متحدہ عرب امارات

"ہم بالکل تیار ہیں،اتحاد ایئر ویز آئی پی او کے لیے تیار، لیکن حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا: سی ای او

خلیج اردو
ابوظبی: اتحاد ایئر ویز کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر انتونوالدو نیویس نے کہا ہے کہ کمپنی شیئر ہولڈرز کی منظوری کے بعد کسی بھی وقت ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کے لیے تیار ہے، تاہم فی الحال اس کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

انہوں نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "ہم بالکل تیار ہیں۔ جیسے ہی شیئر ہولڈر فیصلہ کریں گے، ہم اگلے ہی دن آئی پی او کے لیے جا سکتے ہیں۔”

نیویس نے بتایا کہ دیگر ایئرلائنز کے شیئر ہولڈرز اتنی منافع بخش صورتحال میں ہیں کہ وہ شیئر بائے بیک پر زور دے رہے ہیں اور انہیں اضافی سرمایہ درکار نہیں۔ "ہماری بیلنس شیٹ بھی بہت مضبوط ہے، اس لیے فیصلہ شیئر ہولڈر پر چھوڑا گیا ہے۔”

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، مارچ 2025 میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اتحاد ایئر ویز تقریباً ایک ارب ڈالر مالیت کا آئی پی او پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اتحاد ایئر ویز کے علاوہ، امارات ایئر لائن کے آئی پی او کے حوالے سے بھی گزشتہ چند سالوں سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ امارات گروپ کے چیئرمین شیخ احمد بن سعید المکتوم نے مئی میں عربین ٹریول مارکیٹ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کمپنی بھی آئی پی او کے لیے تیار ہے اور اگر دبئی حکومت ہدایت دے تو وہ اس عمل کو مکمل کریں گے۔

حالیہ برسوں میں دبئی اور ابوظبی کی کئی سرکاری کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں آ چکی ہیں، جس کا مقصد مقامی مارکیٹس کو مزید وسعت دینا ہے۔ تازہ ترین مثال دبئی ریزیڈنشل ریئٹ کی ہے، جس کا آئی پی او 26 گنا زائد سبسکرائب ہوا۔

بدھ کے روز اتحاد ایئر ویز نے اعلان کیا کہ اس نے 685 ملین درہم کا ریکارڈ بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے، جو پچھلے سال کی نسبت 30 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی آمدنی 15 فیصد اضافے کے بعد 6.6 ارب درہم تک پہنچ گئی، جس کی بنیاد مسافروں اور کارگو بزنس پر ہے۔

کمپنی نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 5 ملین مسافروں کو سفر کروایا، جو سال بہ سال 16 فیصد اضافہ ہے، جبکہ لوڈ فیکٹر 87 فیصد تک جا پہنچا۔

فلیٹ میں توسیع: ہر ماہ نئے طیارے شامل
گزشتہ ہفتے اتحاد ایئر ویز نے 28 وائیڈ باڈی بوئنگ طیاروں کے آرڈر کی تصدیق کی، جن میں 787 اور 777X ماڈلز شامل ہیں۔ یہ طیارے 2028 سے کمپنی کے بیڑے میں شامل ہوں گے۔

سی ای او نیویس نے بتایا کہ اتحاد نے پچھلے دو سالوں میں تقریباً ہر ماہ طیارے خریدے ہیں۔ "2022 میں ہمارے پاس 67 سے 70 طیارے تھے، اب ہماری فلیٹ 100 ہو چکی ہے۔ ان طیاروں کو زمین سے نہیں نکالا گیا بلکہ خریدے گئے۔ ہم نے پچھلے چند برسوں میں 60 سے زائد نئے طیارے خریدے اور لیز پر لیے، جن کا اعلان نہیں کیا گیا کیونکہ ہمارا مقصد طیارے بیچنا نہیں، بلکہ ٹکٹ فروخت کرنا ہے۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ 28 بوئنگ طیاروں کے حالیہ اعلان کا مقصد 2030 کے بعد کی فلیٹ منصوبہ بندی ہے۔

"ہم چھوٹے آرڈرز کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ لچک برقرار رکھ سکیں، کیونکہ اگر آج ہی 200 طیارے خرید لیں تو مستقبل کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اور ہم اسے نہیں چاہتے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button