پاکستانی خبریں

قائمہ کمیٹی اجلاس کے دوران نازیبا گفتگو کا معاملہ، اے این پی کارکن کی جانب سے چیئرمین پی ٹی اے کو لیگل نوٹس

خلیج اردو
پشاور: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کے حالیہ اجلاس کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان سے مبینہ نازیبا گفتگو پر ردعمل سامنے آ گیا۔ تحصیل بار لاہور صوابی کے صدر اور اے این پی کے سرگرم رکن، تنویر شہزاد ایڈووکیٹ نے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو قانونی نوٹس بھیج دیا ہے۔

لیگل نوٹس کے متن کے مطابق تنویر شہزاد نے بطور پارٹی رکن چیئرمین پی ٹی اے کے رویے کو اے این پی کی قیادت کی تضحیک قرار دیا۔ نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا کہ اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے کی جانب سے ایمل ولی خان سے نازیبا انداز میں گفتگو کی گئی، جس سے نہ صرف ایمل ولی خان کی قومی و بین الاقوامی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ پارٹی کے عام کارکنان کا وقار بھی مجروح ہوا۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی اے پندرہ دن کے اندر میڈیا پر باضابطہ معافی مانگیں، بصورت دیگر دس کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ کمیٹی اجلاس میں ایمل ولی خان کی جانب سے ڈیجیٹل پالیسیوں پر سخت سوالات اور عوامی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس پر اجلاس میں تلخی دیکھنے میں آئی۔ معاملہ اب قانونی چارہ جوئی کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button