متحدہ عرب امارات

سفر کی قیمت تین ماہ کی تنخواہ کے برابر: یو اے ای کے مکین مہنگے کرایوں کے باعث وطن واپسی مؤخر کرنے لگے

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں مقیم کئی غیر ملکی مکینوں نے اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے آبائی وطن جانے کے منصوبے مؤخر یا منسوخ کر دیے ہیں، جس کی وجہ ہوائی ٹکٹوں اور دیگر سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہے۔

ال مرقباط، دبئی کی رہائشی فلپائنی شہری ماریا ڈی کے لیے اس سال کا سمر ویکیشن طویل عرصے بعد اپنے خاندان سے ملاقات کا موقع تھا، مگر اب وہ یہ سفر منسوخ کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ ماریا، جو بزنس بے میں بطور پرسنل اسسٹنٹ کام کرتی ہیں، کہتی ہیں کہ چار افراد کی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت 16 ہزار درہم سے زائد ہے، اور اس میں سامان، تحائف، خریداری، اور گھریلو سفر کا خرچ شامل نہیں۔

ماریا نے بتایا: "ہم ہر سال جاتے ہیں، مگر اس بار مجموعی لاگت 30 ہزار درہم تک پہنچ گئی۔ صرف ٹکٹ نہیں، بلکہ وہاں کے اندرون سفر، کھانے، تقریبات، اور چھوٹے چھوٹے اخراجات سب کچھ ملا کر بجٹ سے باہر ہو گیا۔”

"یہ فیصلہ دل توڑنے والا ہے، مگر مالی اعتبار سے بہتر ہے”

اسی طرح، ال نہضہ دبئی میں رہائش پذیر بھارتی باشندے پراکاش آر، جو لاجسٹک فرم میں ملازم ہیں، نے چار ہفتے کے کوچی (کیرالہ) کے سفر کا منصوبہ بنایا تھا، مگر اب وہ بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کے مطابق صرف ہوائی کرایہ 13,500 درہم بنتا ہے، جبکہ دیگر اخراجات ملا کر یہ رقم 40 ہزار درہم سے تجاوز کر گئی۔

پراکاش نے کہا: "تین مہینوں کی تنخواہ صرف چھٹیوں پر خرچ کرنا سمجھداری نہیں۔ گاڑی کا کرایہ، تحائف، کھانے، بچوں کی تفریح اور رشتہ داروں کی دعوتیں، سب کچھ بہت مہنگا ہو چکا ہے۔”

دسمبر تک کا انتظار

شارجہ میں مقیم مصری خاتون اور اسکول ٹیچر رانیہ (فرضی نام) نے بھی اس بار مصر جانے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: "ہم چار سالوں سے ہر گرمیوں میں گھر جاتے تھے، مگر اس بار بجٹ اجازت نہیں دیتا۔ صرف پانچ افراد کی ٹکٹ ہی 10 ہزار درہم بنتی ہے، اور دیگر اخراجات 22 ہزار درہم سے اوپر جا چکے ہیں۔”

ان کے بچے مایوس تو ہوئے، مگر اب وہ متحدہ عرب امارات میں سادہ سی چھٹیاں منانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سفر اکتوبر یا دسمبر تک ملتوی کیا جا رہا ہے

وائزفاکس ٹورازم کے سینئر منیجر، سبیر تھیکے پوراتھ والا پیل، کے مطابق بہت سے یو اے ای رہائشی اب جولائی اور اگست کی چھٹیوں کو چھوڑ کر اکتوبر یا دسمبر میں مختصر دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اکثر لوگ مختصر سٹے کیشنز یا یو اے ای کے اندر رہ کر سادہ چھٹیاں گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کے اندر بھی سفر مہنگا ہو گیا ہے۔ "ایک ہفتے کے سفر پر فلائٹس، اندرونی نقل و حمل، ہوٹل، کھانے، سب ملا کر 150,000 روپے (تقریباً 6,500 درہم) سے زیادہ خرچ آتا ہے، جو اکثر مکینوں کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button