
خلیج اردو
دبئی، 17 جون 2025
یو اے ای اور بھارت کے درمیان دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں شامل ایئر کوریڈور حالیہ فضائی حدود کی بندش کے باعث شدید متاثر ہو گیا ہے، جس کے باعث درجنوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں اور سینکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں۔
ایرانی فضائی حدود کی بندش، عمان کے فضائی راستوں کی عدم دستیابی اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فلائٹس کو لمبا راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے ہوائی ٹریفک میں رکاوٹ اور پروازوں کی منسوخی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
2023 میں دونوں ملکوں کے درمیان 1 کروڑ 90 لاکھ سے زائد مسافروں نے سفر کیا۔ ان میں سے بڑی تعداد ان مسافروں کی تھی جو دبئی سے بھارت کے مختلف شہروں کو سفر کرتے ہیں۔
پیر کے روز ایئر انڈیا ایکسپریس کی چھ پروازیں — جن میں دبئی سے لکھنؤ، منگلور اور کوچین جانے والی شامل تھیں — یا تو منسوخ ہو گئیں یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔
ایک متاثرہ مسافر، سابق اماراتی رہائشی سلیم، اپنی اہلیہ کے ہمراہ دبئی آئے تھے اور پیر کی شام واپس بھارت روانہ ہونا تھا، لیکن دوپہر کو پرواز کی منسوخی کا نوٹس موصول ہوا۔ انہیں کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ "فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے پرواز منسوخ کی گئی ہے”۔
اسی دوران ایئر انڈیا کو ایک بڑے سانحے کا سامنا بھی کرنا پڑا، جب لندن جانے والی پرواز AI 171 احمد آباد سے اُڑان بھرنے کے فوراً بعد ایک میڈیکل کالج کی عمارت سے ٹکرا گئی۔ اس واقعے کے بعد بھارت کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے ایئرلائن کے 33 ڈریم لائنر طیاروں کی معائنہ مہم کا حکم دیا ہے، جس سے پروازوں میں مزید تعطل پیدا ہوا ہے۔
دبئی کی رہائشی سمرین بھی متاثرین میں شامل ہیں، جنہیں کوژیکوڈ سے شارجہ پہنچنا تھا، مگر ان کی فلائٹ بھی منسوخ ہو گئی۔ انہوں نے ایک اور سستی ایئرلائن سے منگل کی پرواز بک کرائی ہے اور امید ہے کہ اب کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔
فلا ئ دبئی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ فضائی حدود کی بندش کے باعث ان کی کچھ پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کچھ تاخیرات کا سامنا ہے، اور ہم مسافروں سے معذرت خواہ ہیں”۔
سپائس جیٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ "دبئی ایئرپورٹ پر شدید ATC (ایئر ٹریفک کنٹرول) دباؤ ہے، جس کے باعث پروازیں متاثر ہو رہی ہیں”۔
شارجہ ایئرپورٹ پر ایک خاتون مسافر کو اس وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب یوگنڈا سے آنے والی پرواز تاخیر کا شکار ہوئی اور وہ اپنی کنیکشن فلائٹ سے محروم ہو گئیں۔ تاہم، انہیں ہوٹل اور کھانے کے انتظامات دیے گئے، اور بعد ازاں ایک اور فلائٹ سے وطن روانہ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یو اے ای-بھارت روٹ براہ راست ایران یا عراق کی فضائی حدود سے نہیں گزرتا، تاہم دیگر فلائٹس کی متبادل راستوں کی جانب منتقلی سے دباؤ بڑھا ہے، جو اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔






