
خلیج اردو
ابوظہبی، 17 جون 2025
ابوظہبی کی لیبر کورٹ (فرسٹ انسٹینس) نے ایک کمپنی کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ملازم کو 1 لاکھ 10 ہزار 400 درہم بطور بقایا تنخواہ ادا کرے، حالانکہ مذکورہ شخص نے کبھی باقاعدہ طور پر کام شروع ہی نہیں کیا تھا۔
متاثرہ شخص نے عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے 11 نومبر 2024 سے 7 اپریل 2025 تک کی تنخواہ کے حصول کے لیے درخواست دی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے کمپنی کے ساتھ 7,200 درہم بنیادی تنخواہ اور 24,000 درہم ماہانہ پیکیج پر فکسڈ ٹرم معاہدہ کیا تھا، لیکن کمپنی نے اسے کام شروع کرنے کی اجازت ہی نہیں دی۔
کمپنی کے نمائندے نے عدالت میں پیش ہو کر قانونی جواب اور دستاویزات جمع کرائیں اور مقدمہ متعلقہ شعبے میں منتقل کرنے کی درخواست دی۔
عدالت نے مقامی اخبار "امارات الیوم” کے مطابق اپنے فیصلے میں کہا کہ تنخواہوں کی رپورٹ، ملازمت کا معاہدہ اور مقدمے میں جمع کرائے گئے شواہد سے واضح ہے کہ ملازمت کے آغاز میں تاخیر کمپنی کی جانب سے ہوئی۔
عدالت نے متحدہ عرب امارات کے وفاقی قانون نمبر 33 سال 2021 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آجر پر لازم ہے کہ وہ ملازم کی تنخواہ مقررہ وقت پر ادا کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ تنخواہ مزدور کا حق ہے اور اسے کسی تحریری معافی یا قانونی اعتراف کے بغیر روکا نہیں جا سکتا۔
کمپنی نے دعویٰ کیا کہ ملازم نے خود سے ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوا اور چھٹی پر چلا گیا، تاہم عدالت کو اس حوالے سے کوئی باقاعدہ تحقیقاتی ریکارڈ یا شواہد نہیں ملے۔ ملازم نے صرف آٹھ دن کی چھٹی کا اعتراف کیا، جسے تنخواہ سے منہا کر دیا گیا، اور یوں باقی چار ماہ اور 18 دن کی تنخواہ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔







