
خلیج اردو
دبئی، 17 جون 2025
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث متحدہ عرب امارات میں مقیم افراد جارجیا، آرمینیا، آذربائیجان اور ازبکستان جیسے ممالک کے لیے اپنے سفری منصوبے منسوخ کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ جنگ کی صورت میں وہ ان ممالک میں پھنس سکتے ہیں۔
یو اے ای کے ٹریول ایجنٹس کے مطابق، لوگ ان علاقوں میں غیر ضروری یا سیاحتی سفر سے گریز کر رہے ہیں، خاص طور پر ان مقامات پر جو ایران اور اسرائیل کی ممکنہ جنگی کارروائیوں کے قریب واقع ہیں۔
نیئو ٹریول اینڈ ٹورازم کے پارٹنر آویناش ادنانی نے بتایا کہ "ہم نے دیکھا ہے کہ جارجیا، قازقستان، آرمینیا اور آذربائیجان جانے والے کئی لوگ اپنے دورے منسوخ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ جنگی صورتحال کے باعث وہ واپس نہ آ سکیں۔”
ایران، عراق، اردن، اسرائیل اور شام نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جس کے باعث ان علاقوں سے گزرنے والی پروازیں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ درجنوں افراد، زیادہ تر ایرانی، ہلاک ہو چکے ہیں۔
پروازوں کی منسوخی اور مفت تاریخ کی تبدیلی
ائیر ٹریول انٹرپرائزز دبئی کی جنرل منیجر رینا فلپ کے مطابق، "لوگ چند دن کے لیے بھی ان قریبی ممالک کا سفر نہیں کر رہے۔ بہت سی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور لوگ اپنی سفری تاریخیں بدلوا رہے ہیں۔ ایئرلائنز کی طرف سے فی الحال مفت میں تاریخ تبدیل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔”
وائز فاکس ٹورازم کے سینیئر مینیجر سبیر تھیکے پوراتھ ولاپل نے بتایا کہ "بہت سی پروازیں منسوخ ہونے کے باعث کئی افراد ان ممالک میں پھنس گئے ہیں، جنہیں واپس لانے کی کوششیں جاری ہیں۔”
20 فیصد تک کرایوں میں اضافے کا امکان
سبیر نے کہا کہ جیسے ہی جنگ ختم ہوگی اور پروازیں بحال ہوں گی، ان راستوں پر مانگ میں شدید اضافہ ہوگا جس سے کرایوں میں بھی 20 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
آویناش ادنانی کے مطابق، "فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے کئی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس سے ان راستوں پر نشستوں کی دستیابی محدود ہو گئی ہے۔ جونہی سفر دوبارہ شروع ہوگا، لوگ فوری طور پر ان مقامات کا رخ کریں گے جس سے کرایے مزید بڑھ جائیں گے۔”
رینا فلپ نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ "جنگ کے خاتمے کے بعد جب سفر بحال ہو گا تو سیٹوں کی کمی کے باعث کرایے بڑھ جائیں گے۔







