
خلیج اردو
شارجہ، 17 جون 2025
شارجہ کی ایک عدالت نے اسکول کے دو عملے کو آٹھ سالہ بھارتی طالبعلم راشد حبیب کی موت کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں قانونی دیت کی مد میں دو لاکھ درہم راشد کے اہل خانہ کو ادا کرنے اور دو ہزار درہم جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ شارجہ فیڈرل کورٹ آف اپیل نے ابتدائی عدالت کی بریت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سنایا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسکول عملہ طلبہ کو بس سے کلاس روم تک حفاظت سے پہنچانے میں اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ واقعے کے وقت راشد اسکول کے احاطے میں اکیلا تھا۔
گریڈ ون کا طالبعلم راشد حبیب 11 مارچ 2024، جو رمضان کا پہلا دن تھا، اسکول پہنچنے کے بعد تنہا کلاس روم کی طرف جاتے ہوئے گر کر بے ہوش ہو گیا۔ اسے دل کا دورہ پڑا تھا اور فوری طور پر القاسمی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تمام کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہو سکا۔
شارجہ پولیس کی فرانزک رپورٹ کے مطابق بچے کے چہرے پر زخم، گال کی ہڈی ٹوٹی ہوئی، سر کے نیچے اندرونی خون جمع، اور دماغ پر شدید چوٹیں، سوجن اور خون بہنے کی علامات پائی گئیں۔
تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کردہ سی سی ٹی وی میں یہ واضح ہوا کہ وقوعہ کے وقت بچے اسکول عملے کی نگرانی میں نہیں تھے۔ فوٹیج میں ایک اور بچے کو راشد کی طرف ہاتھ اٹھاتے ہوئے بھی دیکھا گیا، مگر وہ اہم چند سیکنڈز غائب تھے جو واقعے کے اصل لمحے کو واضح کر سکتے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اگر عملہ موقع پر موجود ہوتا تو غالب امکان ہے کہ حادثہ روکا جا سکتا تھا، لہٰذا یہ غیر ذمہ دارانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
راشد کے والد حبیب یاسر نے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب ہم راشد کو یاد نہ کریں۔ ہماری زندگی کبھی ویسی نہ رہی۔ ہم ہمیشہ سوچتے ہیں کہ اگر کوئی ہوتا جو اس کا خیال رکھتا تو شاید وہ آج ہمارے ساتھ ہوتا۔ اسکول گھر جیسا ہوتا ہے، لیکن اس نے ہمارے بچے کا تحفظ نہ کیا۔ اس فیصلے سے کچھ حد تک انصاف ملا ہے، مگر دکھ باقی ہے۔”
اہل خانہ کا پہلے دعویٰ تھا کہ راشد کو دوسرے بچوں نے ہراساں یا حملہ کا نشانہ بنایا، تاہم اسکول انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔







