متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں ٹیکنالوجی کے شعبے کی نوکریاں: کن عہدوں اور مہارتوں کی سب سے زیادہ مانگ ہے؟

خلیج اردو
دبئی، 25 جون 2025
متحدہ عرب امارات میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں درمیانے درجے کی ملازمتوں کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ سینئر ایگزیکٹو سطح پر بھرتیوں میں معمولی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ معروف بین الاقوامی ریکروٹمنٹ ادارے مائیکل پیج کی جانب سے جاری کردہ "2025 ٹیکنالوجی سیلری گائیڈ” کے مطابق، کمپنیاں اپنے تیزی سے پھیلتے منصوبوں کے لیے تجربہ کار اور ہنر مند افراد کی تلاش میں ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں مقابلے کی فضا مزید سخت ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ERP تبدیلی کے ماہرین، پروگرام اور چینج مینجمنٹ اسپیشلسٹس، سائبر سیکیورٹی انجینئرز، آئی ٹی مینیجرز، اور ڈیووپس و آٹومیشن ماہرین ان عہدوں میں شامل ہیں جن کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ مہارتیں جن کی سب سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ان میں کمیونیکیشن، پریزنٹیشن، اسٹیک ہولڈر مینجمنٹ، وینڈر مینجمنٹ، اور تنقیدی سوچ شامل ہیں۔

یو اے ای میں مقامی اور بین الاقوامی ٹیلنٹ کی آمد نے اس شعبے میں مقابلے کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے آجرین کو اعلیٰ معیار کے امیدوار چننے کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔ مقامی فِن ٹیک کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کی تیزی سے ترقی کے ساتھ ساتھ، کئی بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنی سرگرمیاں یو اے ای میں منتقل کر چکی ہیں یا یہاں اپنے علاقائی دفاتر قائم کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، کرپٹو کرنسی سے وابستہ کئی کمپنیوں کی موجودگی نے بھی نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سرکاری اور نجی ادارے تیزی سے انٹرپرائز ایپلیکیشن ٹرانسفارمیشن پروگرامز اپنا رہے ہیں، جن کی کامیاب تکمیل کے لیے ERP کنسلٹنٹس، پروجیکٹ مینیجرز، اور بزنس اینالسٹس کی خاصی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، CRM، SCM، اور HCM جیسے دیگر جدید نظاموں کے ماہرین کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔

سرکاری منصوبے بھی اس بڑھتی ہوئی طلب میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، جن کے نتیجے میں انٹرپرائز آرکیٹیکٹس، کلاؤڈ انجینئرز، اور ایپلیکیشن ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹس کی مستقل بھرتی جاری ہے۔

مائیکل پیج کے مطابق، یو اے ای کی تکنیکی ترقی، جدید طرزِ زندگی، اور تخلیقی سرکاری منصوبے عالمی ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی اب ملکی معیشت کا ایک مضبوط ستون بنتی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button