
خلیج اردو
دوحہ، 24 جون 2025
قطر ایئرویز کے چیف ایگزیکٹو انجینئر بدر محمد المیر کے مطابق، ایران کی جانب سے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کے وقت قطر ایئرویز کی 90 سے زائد پروازیں 20 ہزار سے زیادہ مسافروں کے ساتھ دوحہ کی جانب پرواز کر رہی تھیں۔ ایران کے حملے کے بعد قطر کو اپنا فضائی حدود فوری طور پر بند کرنی پڑی، جس کے نتیجے میں تمام پروازوں کو ہنگامی طور پر مختلف ممالک کی طرف موڑا گیا۔
انجینئر بدر المیر نے ایک کھلے خط میں بتایا کہ 25 پروازیں سعودی عرب، 18 ترکی، 15 بھارت، 13 عمان، اور 5 متحدہ عرب امارات منتقل کی گئیں، جبکہ باقی پروازوں کو لندن، بارسلونا اور دیگر یورپی، ایشیائی اور مشرق وسطیٰ کے شہروں کی جانب موڑ دیا گیا۔ تقریباً 100 طیارے دوحہ کی طرف محوِ پرواز تھے، جن میں سے کچھ لینڈنگ کے لیے قطار میں تھے اور کچھ ہماد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانگی کے لیے تیار تھے۔
ایئرپورٹ پر ہنگامی اقدامات
ہماد ایئرپورٹ پر پہلے ہی 10 ہزار سے زائد مسافر ٹرانزٹ میں موجود تھے۔ قطر ایئرویز نے 4,600 سے زائد مسافروں کو دوحہ میں 3,200 کمروں پر مشتمل ہوٹل سہولت فراہم کی، جبکہ 35,000 سے زائد کھانے، پانی، کٹس اور دیگر سہولیات فوری طور پر فراہم کی گئیں۔
ایران کی جانب سے یہ میزائل حملہ امریکہ کی تین ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس کے بعد بحرین اور کویت نے بھی عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں۔
آپریشنل بحران اور بحالی کی کوششیں
المیر کے مطابق، اس صورتحال میں ایئرلائن کے کئی عملے قانونی طور پر پرواز کے قابل نہ رہے، جبکہ A380 طیاروں سمیت متعدد جہازوں کو مختلف ممالک کے ایئرپورٹس پر اتارنا پڑا، جن میں سے کچھ پر رات کے اوقات کی پابندیاں بھی تھیں۔ 151 سے زائد پروازیں فوری متاثر ہوئیں اور ہر شعبے کو حقیقی وقت میں، بغیر کسی مثال کے، نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑا۔
بحالی کے اقدامات
منگل کے روز جیسے ہی diverted پروازیں دوحہ واپس آنا شروع ہوئیں تو ٹرانزٹ مسافروں کی تعداد 22,000 سے تجاوز کر گئی۔ اس ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قطر ایئرویز نے اپنے بزنس کنٹینیوٹی پلان کو متحرک کیا، جس میں ہوٹل، ٹرانسپورٹ، امیگریشن، کسٹمز اور دیگر امور شامل تھے۔
ایئرلائن کے مختلف محکموں کے عملے نے براہِ راست ٹرانزٹ ایریاز میں جا کر مسافروں کی مدد کی، طبی نوعیت کے معاملات کو ترجیح دی گئی، خاندانوں اور بزرگوں کی رہنمائی کی گئی، اور متعدد پیچیدہ سفری منصوبوں کو ازسر نو ترتیب دیا گیا، جن میں بعض دوسرے ایئرلائنز اور ویزا مسائل بھی شامل تھے۔
ایئرلائن نے فوری طور پر ان تمام مسافروں کو متبادل پروازوں پر روانہ کرنے کے لیے پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا اور ایک لچکدار ٹریول پالیسی نافذ کی، جس کے تحت ایسے مسافروں کو بغیر کسی فیس کے تبدیلی یا ریفنڈ کی اجازت دی گئی جو ابھی اپنی روانگی شروع نہیں کر پائے تھے۔
24 گھنٹوں میں تمام مسافر کلیئر
قطر ایئرویز نے بتایا کہ 24 جون منگل کے دن 390 پروازیں آپریٹ کی گئیں اور تمام 20 ہزار متاثرہ مسافر 24 گھنٹوں کے اندر کلیئر کر دیے گئے۔ ان میں سے 11 ہزار سے زائد مسافر صبح کے اوقات میں روانہ ہوئے، جبکہ باقی شام اور اگلی صبح روانہ ہوئے۔ بدھ کے روز تک کسی بھی پرواز کا مسافر ایئرپورٹ پر پھنس کر نہیں رہ گیا تھا۔
ایئرلائن نے حملے کے 18 گھنٹوں کے اندر معمول کی پروازیں دوبارہ بحال کر دیں۔ منگل کے اختتام تک دوحہ سے 58,000 سے زائد مسافر روانہ ہو چکے تھے۔







