
خلیج اردو
دبئی:15 سالہ فاطمہ احمد حسن کو جب سرکوما (ہڈیوں کے سرطان) کی تشخیص ہوئی تو ان کا خاندان گہرے صدمے میں تھا۔ لیکن جلد ہی انہیں امید کی روشنی وہاں سے ملی جہاں سے وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتے تھے۔
"شیخ محمد بن راشد المکتوم نے میرے پورے علاج کی سرپرستی کی،” فاطمہ نے جذباتی لہجے میں بتایا۔ "ان کی مہربانی نے میری زندگی بدل دی، مجھے میری صحت، میری امید اور میرے خواب واپس مل گئے۔”
فاطمہ کی کہانی ان متاثر کن داستانوں میں سے ایک تھی جو حال ہی میں دبئی کے "میوزیم آف دی فیوچر” میں ایمیریٹس آنکولوجی سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں پیش کی گئیں۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے 25 اسپتالوں سے تعلق رکھنے والے 100 کینسر سروائیورز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ یہ تقریب نیشنل کینسر سروائیورز منتھ کا حصہ تھی، جس میں ابتدائی تشخیص، اعلیٰ معیار کے علاج اور جذباتی مدد کی بدولت بچائی گئی زندگیوں کا جشن منایا گیا۔
ماہ ہا ماہ کے علاج کے بعد، فاطمہ اب مکمل طور پر صحت یاب ہو چکی ہیں اور اب وہ نرس بننے کا خواب رکھتی ہیں۔ "میں دوسروں کی اسی طرح مدد کرنا چاہتی ہوں جیسے نرسوں نے میری کی، کیونکہ جو شخص خود درد سے گزرا ہو، وہی اسے سمجھ سکتا ہے۔”
11 سالہ حمدان کی فٹبال کے میدان میں واپسی
11 سالہ حمدان سعید الفلاسی کو جب ہڈیوں میں درد محسوس ہوا تو خاندان نے اسے کھیل کود کا نتیجہ سمجھا، لیکن وقت کے ساتھ درد بڑھتا گیا۔ متعدد ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ حمدان کو خون کا سرطان (لیوکیمیا) ہے۔
"خوش قسمتی سے بیماری کی بروقت تشخیص اور بہترین ڈاکٹروں کی بدولت میرا بیٹا اب صحت مند اور توانا ہے،” ان کی والدہ نے کہا۔ حمدان اب دوبارہ فٹبال کھیلنے لگے ہیں اور مستقبل میں ڈاکٹر بن کر دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
غزہ، فلسطین سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ہند سلامہ، دو بچوں کی ماں اور دانتوں کی ماہر ہیں، جنہیں 2023 میں ایک معمول کے چیک اپ کے دوران بریسٹ کینسر کی تشخیص ہوئی، حالانکہ انہیں کوئی علامت نہیں تھی۔
"جب ڈاکٹروں نے پوچھا کہ کیا میں واپس جا کر علاج کروانا چاہتی ہوں تو میں نے کہا، ‘یہی میرا گھر ہے، میں یہاں علاج کرواؤں گی،'” ہند نے کہا۔ کیموتھراپی ان کے لیے سب سے مشکل مرحلہ تھا، لیکن خاندان اور طبی عملے کی مدد سے وہ اس سے گزر گئیں۔ اب وہ دیگر خواتین کو وقتاً فوقتاً سکریننگ کروانے کا مشورہ دیتی ہیں۔
نایاب بیماریوں کے خلاف جنگ
23 سالہ مصطفیٰ اسامہ کو دو سال قبل آسٹیوسرکوما، یعنی ہڈیوں کے نایاب کینسر کی تشخیص ہوئی۔ انہوں نے کہا، "یہ جذباتی طور پر انتہائی کٹھن وقت تھا، لیکن جیسے ہی میں یو اے ای کے طبی نظام میں داخل ہوا، مجھے تحفظ کا احساس ہوا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ نایاب مرض کے باوجود انہیں ایسے ماہرین ملے جنہوں نے ہمدردی اور مہارت سے ان کا علاج کیا۔ "میں نے کہیں بھی اس سطح کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزت افزائی نہیں دیکھی۔”
متحدہ عرب امارات کا انسانی صحت سے جڑا ویژن
تقریب میں متعدد مریضوں نے اس بات کو سراہا کہ یو اے ای میں تمام اقوام اور پس منظر کے افراد کو یکساں علاج، جدید سہولیات، اور ہمدردانہ سلوک کے ساتھ علاج فراہم کیا جاتا ہے۔
"یہاں انسان کو فائل نہیں، انسان سمجھا جاتا ہے،” ایک زندہ بچ جانے والے نے کہا۔
پروفیسر حُمید الشامسی کا پیغام
ایمیریٹس آنکولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر حُمید الشامسی نے کہا کہ یہ تقریب صرف سروائیورز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے نہیں بلکہ یو اے ای کے عالمی معیار کی کینسر سے متعلق دیکھ بھال، تحقیق، اور جدید تشخیص سے وابستگی کا عہد نو ہے۔
"یہ ہمارا مشن ہے کہ مزید خاندانوں کو یہ الفاظ سننے کو ملیں: ‘آپ اب کینسر فری ہیں،'” پروفیسر الشامسی نے کہا۔







