متحدہ عرب امارات

فضائی بحران کے باعث اماراتی ایتھلیٹ کا خواب چکنا چور، نوکری اور عالمی چیمپئن شپ میں شرکت سے محرومی

خلیج اردو
دبئی:متحدہ عرب امارات میں مقیم مشرقی یورپی جیو جِتسو ایتھلیٹ البیک آر نے ایک دلخراش تجربہ بیان کیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح خطے میں فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے ان کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ وہ نہ صرف اپنی خوابوں کی نوکری کے انٹرویو سے محروم ہوئے بلکہ ایک عالمی جیو جتسو چیمپئن شپ میں شرکت کا موقع بھی کھو بیٹھے۔

البیک رواں ماہ کے آغاز میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ایک ائیر لائن کے کیبن کریو انٹرویو میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ "میں نے ٹکٹ پہلے ہی بک کروا لیا تھا،” البیک نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، "لیکن جیسے ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی، تمام مشرقی یورپ کی پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔”

اگرچہ ایئرلائن نے ان کی ٹکٹ کی مکمل رقم واپس کر دی، لیکن وہ موقع ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گیا۔ "یہ ایک جنگ تھی، لوگ اپنی جانیں گنوا رہے تھے۔ ایسے میں انٹرویو نہ جا سکنے پر افسوس کرنا درست نہیں لگا۔ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے دوبارہ موقع ملے گا،” البیک نے حوصلے کے ساتھ کہا۔

مسلسل ناکام پروازیں، ضائع ہوتے خواب
جمعرات کے روز البیک ایک اور موقع کے لیے تیار تھے — اس بار ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے ابوظبی گرینڈ سلام جیو جتسو ورلڈ ٹور میں شرکت کے لیے۔ انہوں نے تاشقند کے ذریعے سفر کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن قسمت نے ایک بار پھر ساتھ نہ دیا۔ "ایئرپورٹ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ پرواز منسوخ ہو چکی ہے،” انہوں نے کہا۔ "میں مکمل تیاری کر چکا تھا، لیکن تقدیر کو کچھ اور منظور تھا۔”

گذشتہ ماہ ابوظبی اے جے پی ایسٹ کوسٹ ٹور میں 77 کلوگرام کیٹیگری میں البیک نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین مقابلے جیتے، لیکن فائنل میں معمولی فرق سے گولڈ سے محروم رہ گئے۔

خطے میں فضائی بحران کی شدت
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد 13 جون سے امارات نے ایران، روس، آذربائیجان، جارجیا، عراق، اردن، لبنان اور اسرائیل سمیت متعدد ممالک کی پروازیں منسوخ کرنا شروع کر دی تھیں۔ پیر کے روز ایران نے قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے "العدید” پر میزائل حملہ کیا، جس کے باعث قطر سمیت کئی خلیجی ممالک نے فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی، جس سے سیکڑوں پروازیں متاثر ہوئیں۔

قطر ایئرویز کے گروپ چیف ایگزیکٹو انجینئر بدر محمد المیر نے مسافروں کے نام کھلے خط میں بتایا کہ کس طرح 90 سے زائد طیارے ہوا میں تھے اور فوری طور پر انہیں متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑنا پڑا۔

البیک نے کہا کہ وہ فی الحال امارات میں رہ کر اپنی تربیت جاری رکھیں گے اور کھیل پر توجہ مرکوز کریں گے۔ "میں جانتا ہوں کہ موجودہ حالات کے بعد پروازوں کے شیڈول کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا، اس لیے میں کچھ دیر بعد ہی واپسی کا ارادہ رکھتا ہوں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button