
خلیج اردو
کابل: افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اعلان کیا ہے کہ روس طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ انہوں نے روس کے اس اقدام کو "جرأت مندانہ فیصلہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔
یہ اعلان روس کے سفیر دمتری ژیرنوف سے کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آیا، جہاں روسی سفیر نے طالبان حکومت کو روس کی باضابطہ منظوری سے آگاہ کیا۔
امیر خان متقی نے اس پیش رفت کو "مثبت تعلقات، باہمی احترام اور تعمیری مشغولیت کے نئے مرحلے کا آغاز” قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس کا یہ قدم دوسرے ممالک کو بھی طالبان حکومت کے ساتھ باقاعدہ تعلقات استوار کرنے کی راہ دکھائے گا۔
واضح رہے کہ اگرچہ چین، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور پاکستان نے کابل میں اپنے سفیر مقرر کیے ہیں، لیکن روس پہلا ملک ہے جس نے تقریباً چار سال بعد طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد انہیں باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب طالبان حکومت عالمی سطح پر مکمل سفارتی تسلیم کی تلاش میں ہے اور روس کی حمایت کو ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔






