
خلیج اردو
دبئی مرینا میں فور اسٹار ہوٹل چلانے والے ہوٹل مالک کو بھارت میں 950 ملین درہم کے مبینہ کرپٹو اسکینڈل میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ہر یانہ کی فرید آباد پولیس نے ہفتے کے روز خلیج ٹائمز کو اس بڑی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
39 سالہ ملزم HPZ ٹوکن اسکیم کا مرکزی کردار بتایا جا رہا ہے، جسے جعلی کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری کا منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے ذریعے ہزاروں بھارتی شہریوں کو غیرحقیقی منافع کے جھوٹے وعدے دے کر دھوکا دیا گیا۔
ملزم کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن رواں سال کے آغاز میں بھارتی عدالت نے اسے "معاشی طور پر مفرور مجرم” قرار دیا تھا، جس کا اعلان بعد ازاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے کیا۔
ED کے مطابق HPZ ٹوکن کیس میں 2.2 ارب روپے (تقریباً 956 ملین درہم) کی غیر قانونی رقوم کی نشاندہی ہو چکی ہے، جو ملزم نے دبئی میں اپنے کاروبار کے ذریعے بھارت سے نکال کر کرپٹو میں منتقل کیں اور پھر کمیشن کاٹ کر چینی ایجنٹس کے حوالے کر دیں۔
فرید آباد پولیس کے ترجمان یشپال یادو کے مطابق، "ملزم کو دہلی کے روہنی سیکٹر 11 سے گرفتار کیا گیا اور وہ پولیس ریمانڈ پر ہے۔ یہ ایک بڑی گرفتاری ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کا سراغ ایک جعلی دستاویزات سے کھولے گئے بینک اکاؤنٹ سے ملا، جس میں متاثرہ شخص کی رقم جمع ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزم 2022 میں ED کی جانب سے تحقیقات شروع ہونے کے بعد دبئی چلا گیا تھا۔ تاہم تین ہفتے قبل پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے اس کے خلاف جاری لک آؤٹ سرکلر کو کالعدم قرار دے کر اسے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی، جس کے بعد وہ بھارت واپس آیا۔
ملزم اور اس کے کاروباری ساتھی پر الزام ہے کہ وہ ہوٹلنگ کے ساتھ ساتھ سائبر فراڈ کا نیٹ ورک بھی چلا رہے تھے۔ یادو کے مطابق، "ملزم 30 فیصد رقم خود رکھتا تھا جبکہ باقی دبئی میں موجود ساتھی کو منتقل کرتا تھا، جو نیٹ ورک کے دوسرے حصے کو سنبھالتا تھا۔”
یہ گرفتاری جنوری 2024 میں فرید آباد کے ایک انجینئر کی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جسے سوشل میڈیا پر جعلی اسٹاک مارکیٹ اسکیم میں 8 لاکھ 80 ہزار درہم سے زائد کا نقصان ہوا تھا۔ متاثرہ شخص نے رقم 11 مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی تھی، جو بعد میں اسکینڈل سے جڑے نکلے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں اب تک 12 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور مزید چار، جن میں ملزم کا ساتھی بھی شامل ہے، کی تلاش جاری ہے۔ ان کے خلاف بھی لک آؤٹ سرکلر جاری کرنے کا عمل جاری ہے تاکہ وہ بھارت میں داخل ہوتے ہی گرفتار کیے جا سکیں۔
HPZ ٹوکن اسکینڈل کو بھارت کی تاریخ کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی فراڈز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ متاثرین کو ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کروا کر کرپٹو مائننگ میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی، ابتدائی منافع ظاہر کر کے اعتماد پیدا کیا گیا، اور بعد میں بڑی رقم جمع ہونے پر وہ غائب ہو گئے۔
ED اب تک 497 کروڑ روپے (216 ملین درہم) کے اثاثے منجمد یا ضبط کر چکی ہے اور 200 سے زائد شیل کمپنیوں کا سراغ لگایا گیا ہے، جو ملزم اور اس کے ساتھیوں نے رقم کے اصل ذرائع کو چھپانے کے لیے بنائی تھیں۔







