
خلیج اردو
صنعا / تل ابیب: اسرائیل نے یمن میں حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ کے زیرکنٹرول علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں تین اہم بندرگاہوں اور ایک پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ان مقامات پر کی گئیں جہاں سے اسرائیل پر حملے کیے جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ "حوثی اپنے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں گے، اگر ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنے کا سلسلہ جاری رہا تو ہم مزید سخت کارروائیاں کریں گے۔”
اسرائیل کے مطابق یمن کی حدود سے حوثیوں کی جانب سے مسلسل حملے کیے جا رہے تھے، جن میں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز شامل تھے، جو اسرائیلی دفاعی نظام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکے تھے۔
حوثی قیادت کی جانب سے تاحال اس حملے پر باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد عسکری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حوثیوں کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف یکجہتی کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیلی اور مغربی مفادات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔







