
خلیج اردو – 21 جولائی 2025
دبئی کا ائیرپورٹ پیر کی صبح 6 بجے۔ کچھ رہائشی پہلے ہی سوٹ پہنے اپنی فلائٹ کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں۔ 9 بجے تک وہ ریاض یا کسی اور خلیجی دارالحکومت کے دفتر میں داخل ہو رہے ہوتے ہیں۔ جمعرات کی شام یا جمعہ کی صبح وہ واپس یو اے ای میں ہوتے ہیں، جہاں ان کا ویک اینڈ اہلِ خانہ اور دوستوں کے ساتھ گزرتا ہے۔
خلیج میں بڑھتے معاشی مواقعوں کے ساتھ ایک نیا طرزِ زندگی سامنے آیا ہے: ایسے افراد جو دبئی میں رہتے ہیں لیکن پورا ہفتہ قریبی خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں — جیسے وہ شہروں کے درمیان آ جا رہے ہوں۔
پیکنگ، پرواز، اور پھر واپسی
33 سالہ رئوف الݡاماتی دبئی کے رہائشی ہیں لیکن پیر سے جمعرات تک ریاض میں سعودی کلائنٹس کے ساتھ پروجیکٹس چلاتے ہیں۔ ہفتہ کے آخر میں وہ یو اے ای واپس آ جاتے ہیں — کبھی ابو ظبی، جہاں ان کی اہلیہ ہیں، اور کبھی دبئی، جہاں وہ گزشتہ ایک دہائی سے رہائش پذیر ہیں۔
رئوف، جو کنسلٹنگ فرم فور پرنسپلز میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے سربراہ ہیں، کہتے ہیں:
"یہ طرز زندگی مشق مانگتا ہے۔ اگر آپ آدھے دل سے کریں گے، تو نبھا نہیں پائیں گے۔ جن کے سعودی عرب میں دوسری الماری ہوتی ہے، میں جان لیتا ہوں کہ وہ سنجیدہ ہیں۔”
ان کے مطابق، پروازیں، ہوٹلز اور نظام الاوقات سنبھالنا شروع میں مشکل ہوتا ہے، لیکن بعد میں معمول بن جاتا ہے۔
’میں اب بھی کہتا ہوں، میں دبئی میں رہتا ہوں‘
رئوف کہتے ہیں کہ دبئی ان کا اصل گھر ہے۔
"میری بیوی یہاں ہے، میرے دوست یہاں ہیں۔ میں کبھی مکمل طور پر اور کہیں منتقل ہونا نہیں چاہتا تھا۔”
’بس جہاز کی جگہ گاڑی‘
28 سالہ ڈیویڈ فاخوری نے 2024 میں دبئی مارینا میں رہائش اختیار کی، لیکن ان کا پورا ہفتہ ریاض میں گزرتا ہے۔
"میرے لیے یہ بس ایک عام آمدورفت جیسا بن گیا ہے، بس گاڑی کے بجائے جہاز ہے۔”
ان کا کہنا ہے کہ دبئی میں خاندان اور دوستوں کی موجودگی اور طرز زندگی ان کے فیصلے کی بنیاد تھے۔
"پیشہ ورانہ طور پر ریاض میں مواقع زیادہ ہیں، لیکن ذاتی طور پر دبئی گھر جیسا ہے۔”
وہ کہتے ہیں کہ اب وہ صرف لیپ ٹاپ لے کر سفر کرتے ہیں — کپڑے دوسری الماری میں رکھ دیے گئے ہیں۔
توازن قائم رکھنا ایک چیلنج
ڈیویڈ اور رئوف دونوں نے اعتراف کیا کہ مسلسل سفر کے باعث صحت برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔ جم کی یکسانیت، ہوٹلوں میں کھانے کے بہتر انتخاب اور نیند کے نظام کو بہتر بنانا ان کی روزمرہ کا حصہ ہے۔
’یہ وقت کی بات ہے، پیسے کی نہیں‘
فائنانس سیکٹر میں کام کرنے والے اریجیت نندی کے لیے ہر ویک اینڈ دبئی واپس آنا صرف آسانی نہیں بلکہ خاندانی ترجیح ہے۔
"شروع میں ہر دو ہفتے بعد آتا تھا، اب ہر ویک اینڈ واپس آتا ہوں۔ میرا بیٹا بڑا ہو رہا ہے، اور میں اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں۔”
ان کے مطابق، پروازوں کے اخراجات وہ خود برداشت کرتے ہیں، چاہے کبھی کبھار وہ ضائع بھی ہو جائیں:
"کبھی اچانک میٹنگ آ جائے تو فلائٹ مس ہو جاتی ہے، لیکن میں اسے نقصان نہیں سمجھتا۔ میرے لیے یہ سب اس وقت کی قیمت ہے جو میں اپنے بیٹے کے ساتھ گزارتا ہوں۔”
نئی شناخت: ہفتہ وار مسافر
یہ طرز زندگی شاید روایتی نہ ہو، لیکن خلیج میں آج یہ ایک عام حقیقت بنتی جا رہی ہے۔ دبئی ان کے لیے صرف رہائش نہیں، بلکہ جذباتی مرکز ہے — اور ہر جمعرات کی واپسی ایک نئے آغاز جیسا احساس دیتی ہے۔







