
خلیج اردو
غزہ: اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (یو این آر ڈبلیو اے) نے اسرائیلی محاصرے کے سبب غزہ میں خوراک اور ادویات کی قلت کو سنگین انسانی بحران قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ملین بچے بھوک کا شکار ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی اس وارننگ کے ساتھ ایسی دل دہلا دینے والی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں بچے خالی برتن لے کر امدادی خوراک کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ ان تصاویر نے دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے نے کہا ہے کہ اسرائیل دانستہ طور پر شہریوں کو فاقہ کشی پر مجبور کر رہا ہے۔
ایجنسی کے مطابق 2024 سے اب تک اس کی جانب سے غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد بچوں کا طبی معائنہ کیا جا چکا ہے جن میں سے ہر دس میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار پایا گیا۔ ادارے کی ترجمان جولیئٹ تومہ نے جنیوا میں ویڈیو لنک کے ذریعے بتایا کہ "جب سے 2 مارچ کو محاصرہ مزید سخت کیا گیا ہے، غذائی قلت کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔”
جولیئٹ تومہ نے مزید کہا کہ ایک نرس نے بتایا کہ جس قسم کی غذائی قلت وہ اب دیکھ رہے ہیں، وہ ماضی میں صرف کتابوں یا ڈاکومنٹریز میں دیکھی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ دوا، غذائیت کی اشیاء، صفائی کے سامان اور ایندھن کی شدید قلت ہے۔
یو این آر ڈبلیو اے نے منگل کے روز ایک اور ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیلی محاصرہ ختم نہ کیا گیا تو قحط جیسی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے مئی میں 11 ہفتے طویل امدادی پابندی ختم کی تھی اور محدود اقوام متحدہ کی امداد کی اجازت دی تھی، مگر یو این آر ڈبلیو اے کو اب بھی امدادی سامان لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
دوسری جانب برطانیہ سمیت 25 مغربی ممالک، جن میں آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس اور اٹلی شامل ہیں، نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں جنگ فوراً ختم کی جائے کیونکہ شہریوں کی تکلیف ناقابل بیان حد تک بڑھ چکی ہے۔
ادھر اسرائیلی فوجی امدادی ادارہ کوگاٹ کا کہنا ہے کہ اب تک 67 ہزار خوراک سے بھرے ٹرک غزہ بھیجے جا چکے ہیں جن میں 15 لاکھ ٹن خوراک، بشمول بچوں کا دودھ شامل ہے۔ ان کے مطابق حالیہ ہفتوں میں 2 ہزار ٹن سے زائد بچوں کی خوراک غزہ منتقل کی گئی۔
اسرائیل اور امریکہ نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی زیر قیادت امدادی کارروائیوں سے سامان چرا رہی ہے، تاہم حماس نے اس کی تردید کی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے نجی سکیورٹی اور لاجسٹک کمپنیوں کی مدد سے "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن” قائم کی ہے، جس کے ذریعے امداد تقسیم کی جا رہی ہے، مگر اقوام متحدہ نے اس ادارے کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا ہے۔
یونیسیف کے مطابق صرف گزشتہ ماہ 5800 سے زائد بچوں میں غذائی قلت کی تشخیص ہوئی جن میں ایک ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے، اور یہ شرح لگاتار چوتھے ماہ بڑھ رہی ہے۔







