
خلیج اردو
دبئی: نالج اینڈ ہیومن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KHDA) نے دبئی کے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ، پرنسپل، لیکچرارز اور دیگر عملے کی فوری برطرفی کے قابل 36 سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملازم ان میں سے کسی ایک خلاف ورزی کا بھی مرتکب پایا جائے تو اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا اور وہ دوبارہ کسی بھی نجی تعلیمی ادارے میں کام کرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔
اتھارٹی کے مطابق یہ ضابطے تمام تعلیمی اداروں پر لاگو ہوں گے جن میں اسکول، یونیورسٹیاں، ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، ووکیشنل ادارے اور ارلی چائلڈ ہڈ سینٹرز شامل ہیں۔
خلاف ورزیوں کو نو بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے:
-
افراد کے خلاف جرائم (بشمول انسانی اسمگلنگ، جنسی جرائم، بچوں کے ساتھ زیادتی یا تشدد، ہراسانی اور قتل)
-
ریاستی سلامتی اور عوامی امن کے خلاف جرائم (جیسے منشیات، سائبر کرائم، غیر قانونی ہتھیار، عوامی مقامات پر دھمکیاں)
-
املاک اور اثاثوں کے خلاف جرائم (چوری، رشوت، جعل سازی، بدعنوانی، فراڈ)
-
عوامی اخلاقیات اور ساکھ کے خلاف جرائم (بدنامی، توہین مذہب، ناجائز تعلقات، غیر قانونی ریکارڈنگ)
-
بچوں کے تحفظ سے متعلق خلاف ورزیاں (غفلت، جان بوجھ کر رپورٹ نہ کرنا، بنیادی حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی)
-
پیشہ ورانہ دیانت داری کی خلاف ورزیاں (جعلی اسناد، غلط معلومات، راز افشا کرنا)
-
ادارہ جاتی پالیسیوں کی خلاف ورزیاں (ڈیٹا پرائیویسی، غیر مجاز تدریسی موضوعات، حساس معلومات کا افشا)
-
دیگر خلاف ورزیاں (کام کے دوران نشہ آور اشیاء کا استعمال، مستقل غیر حاضری یا تاخیر)
-
سب مائنر خلاف ورزیاں (17 چھوٹے جرائم جن پر پہلی بار میں زبانی یا تحریری وارننگ دی جائے گی، جیسے سائبر بُلیئنگ، نازیبا پوسٹس، اے آئی کے غلط استعمال، مذہبی یا ثقافتی بے ادبی وغیرہ)
اتھارٹی نے کہا ہے کہ اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے ڈسپلنری پالیسیز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کریں، تمام عملے تک رسائی کو یقینی بنائیں اور کسی بھی کارروائی سے پہلے ٹھوس شواہد اکٹھے کریں۔
یہ اقدامات دبئی کے نجی تعلیمی اداروں میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور محفوظ تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔







