
خلیج اردو
دبئی: دبئی میں رہائشی یونٹس کی فراہمی میں مسلسل اضافہ اور طلب میں نرمی کے باعث کرایہ داری مارکیٹ کرایہ داروں کے حق میں جھکنے لگی ہے۔ ماہرین جائیداد کے مطابق کئی اپارٹمنٹس مارکیٹ میں زیادہ دیر تک موجود رہنے لگے ہیں، جس پر مالکان نے لچک دکھاتے ہوئے کرایہ داروں کو نئی سہولتیں دینا شروع کر دی ہیں۔
عالمی ریئل اسٹیٹ کنسلٹنسی سی بی آر ای (CBRE) کی رپورٹ کے مطابق مالکان اب ایک ماہ کا مفت کرایہ، کمیشن فیس معاف، بلز شامل، اور ایک سے زیادہ چیک میں ادائیگی جیسے پرکشش پیکیجز دے رہے ہیں۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ رہائشی اب گھر خریدنے کی طرف جا رہے ہیں جبکہ کرایہ کی تجدیدات میں بھی کمی آئی ہے۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2025 میں دبئی میں 38 نئے منصوبوں کا آغاز ہوا جن سے تقریباً 8 ہزار نئے یونٹس مارکیٹ میں آئے، جبکہ مزید 35 منصوبوں کا اعلان بھی کیا گیا۔ پراپرٹی مانیٹر کے مطابق جولائی 2025 میں ہی 50 سے زائد منصوبے لانچ کیے گئے جن کے ذریعے 13 ہزار 800 رہائشی یونٹس مارکیٹ میں شامل ہوئے، جن کی مجموعی ممکنہ مالیت 38 ارب درہم رہی۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں دبئی میں تقریباً 93 ہزار یونٹس لانچ کیے گئے، جن کی مجموعی ممکنہ مالیت 270 ارب درہم تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یونٹس کی اتنی بڑی تعداد مارکیٹ میں آنے سے خریدار زیادہ محتاط اور انتخابی ہو گئے ہیں، جس کے باعث طلب میں کچھ کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اب ڈویلپرز کو رفتار کے بجائے منصوبوں کی پائیداری اور قیمتوں کی حقیقت پسندی پر توجہ دینا ہوگی۔
سی بی آر ای کے مطابق اپارٹمنٹس کے کرایوں میں ماہ بہ ماہ ایک فیصد اور ولاز میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہے، جب کرایوں اور قیمتوں میں دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ دیکھا گیا تھا۔
ماہرین نے بتایا کہ مالکان اپنی جائیداد کو زیادہ پرکشش بنانے کے لیے انہیں فرنش اور اپ گریڈ کر رہے ہیں تاکہ جدید طرز زندگی کے خواہشمند کرایہ داروں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ اس رجحان سے بہتر یونٹس کے کرایے تو بلند ہو رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر مارکیٹ میں کرایہ داروں کے لیے زیادہ آپشنز اور سہولتیں دستیاب ہو گئی ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اب ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں کرایہ داروں کے پاس زیادہ بہتر مواقع اور ڈیلز موجود ہیں۔







