سپورٹس

سابق چیئرمین پی سی بی کا ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی پر انکشاف

خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ پی سی بی کے ہنگامی اجلاس میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی تھی جسے انہوں نے ادارے کے لیے "وجودی بحران” قرار دیا۔

نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں نجم سیٹھی نے بتایا کہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ اور موجودہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے دھمکی دی کہ پاکستان ایشیا کپ سے دستبردار ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہوتا تو پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا، ایشین کرکٹ کونسل کی جانب سے پابندی لگ سکتی تھی، آئی سی سی کی جانب سے جرمانہ ہو سکتا تھا، غیر ملکی کھلاڑی پاکستان سپر لیگ میں شرکت سے انکار کر دیتے اور پی سی بی کو 15 ملین ڈالر کے نشریاتی حقوق سے بھی محروم ہونا پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اجلاس میں اس نیت سے گئے کہ "پی سی بی کو بچنا چاہیے اور کھلاڑیوں کو بچنا چاہیے”۔ اس اجلاس میں سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ بھی شریک تھے۔

یہ اجلاس 17 ستمبر کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے میچ سے قبل ہوا۔ اس روز پاکستان ٹیم دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم تاخیر سے پہنچی جس کے باعث میچ ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ ٹیم نے ہوٹل سے روانگی بھی ٹاس سے محض ایک گھنٹہ قبل کی اور پری میچ پریس کانفرنس منسوخ کر دی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گروپ اے کے میچ کے بعد کشیدگی اس وقت بڑھی جب بھارتی کھلاڑیوں نے مصافحہ کیے بغیر گراؤنڈ چھوڑ دیا، جس پر پی سی بی نے شدید احتجاج کیا اور بعد ازاں پاکستان نے میچ کے بعد کی پریزنٹیشن تقریب میں بھی شرکت نہیں کی۔

پی سی بی کے بیان کے مطابق میچ ریفری اینڈی پائی کرافتھ نے پاکستانی کپتان اور مینیجر سے معذرت کی اور معاملے کو غلط فہمی قرار دیا۔ تاہم آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر تحقیقات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آئی سی سی نے پی سی بی کو خط اور ای میلز ارسال کی ہیں جن میں 17 ستمبر کو یو اے ای کے خلاف میچ کے دوران کئی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں اسٹیڈیم کے اندر ویڈیو ریکارڈنگ اور پی سی بی کے آفیشل سوشل میڈیا پر وہ ویڈیوز پوسٹ کرنا شامل ہے۔ ان اقدامات پر آئی سی سی برہمی کا اظہار کر چکی ہے اور امکان ہے کہ پی سی بی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button