متحدہ عرب امارات

نوجوان اماراتی موجدہ، جو اماراتی ثقافت سے جڑی مصنوعی ذہانت تخلیق کرنے کا خواب دیکھتی ہیں

خلیج اردو
ابوظہبی: متحدہ عرب امارات کی نوجوان موجدہ فاطمہ الکع بی، جو بیس کی دہائی میں ہیں، کم عمری سے ہی اختراعات اور جدت کے میدان میں قدم رکھ چکی ہیں۔ سائنس اور انسانیت کو یکجا کرنے والے ان کے جذبے نے نہ صرف انہیں موجد بنایا بلکہ اپنی کمیونٹی میں ایک فعال رکن بھی ثابت کیا۔ ان کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صحیح ماحول اور تعاون ملے تو نوجوان اپنی صلاحیتوں سے دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔

فاطمہ نے بتایا کہ ان کا شوق سات برس کی عمر میں شروع ہوا جب ان کے والد، جو انجینئر ہیں، اور والدہ، جو ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتی ہیں، نے انہیں متاثر کیا۔ خاندان کی حوصلہ افزائی اور مختلف سائنسی ورکشاپس نے ان کے شوق کو پروان چڑھایا۔

ان کی پہلی ایجاد 2012 میں ایک فوٹوگرافی روبوٹ تھی، جو تصاویر لیتا اور فاصلہ ناپتا تھا۔ یہ ایجاد مہارت بڑھانے والے ایک کیمپ کے دوران سامنے آئی اور ان کے لیے جدت کی دنیا میں پہلا قدم ثابت ہوئی۔

فاطمہ کے مطابق ان کے والدین سب سے بڑے سہارا تھے جبکہ اماراتی موجد محمد الشامسی اور قیادت کی طرف سے دی گئی حوصلہ افزائی نے بھی ان کے عزم کو مضبوط بنایا۔ ان کے قریبی ترین منصوبوں میں اسمبلی روبوٹ شامل ہے، جو العین کے توام اسپتال میں بیمار بچوں کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ابتدائی دنوں میں انہیں اس بات کا چیلنج رہا کہ نوآوری کا کلچر زیادہ عام نہیں تھا اور کم عمری کی وجہ سے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، لیکن قیادت کی جانب سے اعزازات اور معاون پروگراموں نے راستہ ہموار کیا۔

فاطمہ کو کم عمر ترین اماراتی موجدہ کا اعزاز ملنے پر فخر محسوس ہوا، جسے وہ اپنی جدتوں کو تسلیم کیے جانے کا سنگ میل قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے لیے سب سے بڑی تحریک شیخ محمد بن راشد المکتوم ہیں جو ہمیشہ نئے انداز میں سوچنے اور سبقت لینے کی ترغیب دیتے ہیں۔

وہ بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ ہمیشہ تجسس کو زندہ رکھیں، سوالات پوچھیں، تجربات سے نہ گھبرائیں اور ٹیکنالوجی و مصنوعی ذہانت کو اپنی سیکھنے کی جستجو کا حصہ بنائیں۔

فاطمہ کا سب سے بڑا خواب ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ایسے منصوبے کی بانی بنیں جو اماراتی ثقافت سے جڑا ہو اور ایک نئی نسل کے موجدوں کو پروان چڑھائے، تاکہ وہ اپنے خیالات کو حقیقت میں بدل سکیں اور دنیا بھر میں امارات کا نام بلند کریں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button