متحدہ عرب امارات

دبئی: شیخ حمدان نے مرحوم بھائی کی یاد میں پسماندہ افراد کے لیے منصوبہ کا آغاز کیا

خلیج اردو
دبئی: ولی عہد دبئی شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے مرحوم بھائی شیخ راشد بن محمد المکتوم کی انسانیت سے محبت کی روایت کو زندہ رکھنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت ماڈل ویلجز تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ دیہات پسماندہ خاندانوں کو رہائش، تعلیم، صحت اور سماجی سہولیات فراہم کریں گے تاکہ انہیں باوقار زندگی کی بنیادی بنیادیں میسر آ سکیں۔

شیخ حمدان نے اپنے بھائی کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ راشد کا اثر ہمیشہ زندہ رہے گا اور دبئی کے انسان دوست منصوبوں کے ذریعے دنیا میں امید اور بھلائی بانٹی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ "راشد ویلجز کے ذریعے ہمارا مقصد پائیدار تبدیلی لانا ہے تاکہ امید بحال ہو، باوقار زندگی کی بنیاد فراہم ہو اور ثابت کیا جا سکے کہ دبئی میں سخاوت ایک طرزِ زندگی ہے جو ترقی اور مواقع کے دروازے کھولتی ہے۔”

منصوبے کا پہلا مرحلہ کینیا میں 72 دونم (7.2 ہیکٹر) پر محیط ایک ماڈل ویلیج کی تعمیر سے شروع ہوگا، جس میں مکمل طور پر فرنشڈ مکانات، مسجد، 500 افراد کی گنجائش والا ملٹی پرپز ہال، کھیل کے میدان، اسپورٹس اکیڈمی، اور پائیدار توانائی کے نظام شامل ہوں گے۔ دیہات میں کمرشل یونٹس بھی بنائے جائیں گے تاکہ مقامی معاشی سرگرمی کو فروغ ملے اور مکینوں کو مستحکم آمدنی حاصل ہو سکے۔

تقریباً 1,700 افراد کے لیے ڈیزائن کیے گئے اس گاؤں میں جدید انفراسٹرکچر، سیفٹی سسٹمز، سی سی ٹی وی کیمرے، سولر لائٹنگ اور پختہ سڑکیں ہوں گی تاکہ معاشرتی زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ منصوبہ ہر سال ایک نیا ماڈل ویلیج قائم کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا تاکہ مرحوم شیخ راشد کی خدمتِ انسانیت کی روایت کو دوام بخشا جا سکے۔

تعلیم اس منصوبے کا مرکزی ستون ہے۔ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز کے تحت چلنے والے "دیجیٹل اسکول” کے ساتھ شراکت داری میں راشد ایجوکیشن پراجیکٹ کے ذریعے بچوں کو معیاری ڈیجیٹل تعلیم فراہم کی جائے گی جبکہ ایک جدید اسکول بھی تعمیر ہوگا جو 320 سے زائد طلبہ کو تعلیم دے سکے گا۔

علاوہ ازیں، خاندانوں کو ہنر مندی اور چھوٹے کاروبار کے مواقع دیے جائیں گے تاکہ وہ معاشی خودمختاری حاصل کر سکیں۔ منصوبے میں صحت کی سہولتوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس کے تحت ایک ہیلتھ سینٹر، طبی دیکھ بھال، حفاظتی اقدامات، صاف پانی اور حفظانِ صحت کے نظام فراہم کیے جائیں گے۔

یہ اقدام نہ صرف صحت مند اور محفوظ کمیونٹی تشکیل دے گا بلکہ بین الاقوامی انسان دوست اداروں کے تعاون سے ترقی پذیر علاقوں میں بچوں اور خاندانوں کو بہتر طبی سہولتیں بھی فراہم کرے گا۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button