
خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں وزن کم کرنے کی نئی ٹیکنالوجیز اور ادویات تیزی سے مقبول ہورہی ہیں، خاص طور پر GLP-1 انجیکشنز، مگر ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ ان کے غلط استعمال سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ادویات اگرچہ وزن میں کمی میں مدد دیتی ہیں لیکن احتیاط نہ برتی جائے تو چربی کے بجائے پٹھے کم ہوسکتے ہیں۔
ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارم ’’دار ڈاک‘‘ کے شریک بانی کیسوِن سریش کے مطابق حالیہ مہینوں میں 1,600 سے زائد افراد نے یہ علاج شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “بغیر پروٹین اور ورزش کے 40 فیصد وزن پٹھوں سے کم ہوسکتا ہے، اس لیے ہم نسخے کے ساتھ ساتھ فٹنس اور غذائی مشاورت بھی فراہم کرتے ہیں۔”
اسی طرح ’’گلو کیئر‘‘ کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر یوسف سعید کا کہنا ہے کہ مریض اکثر ترازو پر وزن تو کم کرتے ہیں مگر زیادہ تر پٹھوں سے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ “ہمارا مقصد صرف چربی کی کمی یقینی بنانا ہے تاکہ مریض دیرپا صحت مند رہ سکیں۔”
GLP-1 انجیکشنز کی مقبولیت ان کی آسان دستیابی کی وجہ سے بڑھی ہے۔ دار ڈاک کے ماڈل میں مریض صبح 9 بجے سائن اپ کرتے ہیں، 9:30 پر ڈاکٹر سے مشورہ لیتے ہیں اور 10:30 پر دوا وصول کر لیتے ہیں، جبکہ نرسیں گھروں میں جا کر انجیکشن یا ٹیسٹ کرتی ہیں۔
مریضوں کی کہانیاں بھی دلچسپ ہیں۔ اردنی پوڈ کاسٹر نوال جمال نے PCOS کے باعث جدوجہد کے بعد Mounjaro دوا اور ہائی پروٹین ڈائیٹ کے ساتھ 88 کلو سے وزن کم کر کے 58 کلو تک پہنچایا، مگر دوائی بند کرنے کے بعد cravings واپس آ گئیں۔ پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر مہرین زبیر نے بھی اسی دوا سے وزن کم کیا اور فی الحال 86 کلو سے 65 کلو تک آگئی ہیں، جس سے نہ صرف ان کی صحت بہتر ہوئی بلکہ اعتماد بھی بحال ہوا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج مریضوں کو دوا بند کرنے کے بعد بھی وزن قابو میں رکھنا ہے۔ اگر طرزِ زندگی نہ بدلا جائے تو وزن دوبارہ بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس لیے مریضوں کو پروٹین سے بھرپور غذا، ورزش اور ذہنی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ یہ دوائیں جادوئی حل نہیں بلکہ صرف ایک مددگار ذریعہ ہیں۔ اصل مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں بلکہ صحت مند طریقے سے چربی کم کرنا ہے، ورنہ پٹھوں کے نقصان کے باعث مریض طویل مدت میں صحت کے مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔







