
خلیج اردو
دبئی کی ایک گيٹڈ کمیونٹی میں محض 24 گھنٹوں کے اندر دو بلیوں کے کچلے جانے کے بعد رہائشی چیکو سنگھ نے فیصلہ کیا کہ خاموش رہنے کے بجائے عملی قدم اٹھایا جائے۔ انہوں نے کمیونٹی ڈویلپر سے رابطہ کیا اور جانوروں اور رہائشیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
چیکو سنگھ کی کاوشوں کے بعد کمیونٹی نے فوری ردعمل دیتے ہوئے رفتار کی حد کم کر کے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی، نئے اسپیڈ بریکر لگائے اور مین انٹری روڈ پر پولیس کیمرا نصب کیا۔
چیکو، جو 25 سال سے زائد عرصے سے جانوروں کی فلاح و بہبود کے کام سے منسلک ہیں، نے کہا: "ان بلیوں کو ہم روز دیکھتے اور کھلاتے ہیں، وہ ہماری کمیونٹی کا حصہ ہیں۔ ان کی اچانک ہلاکت دل توڑ دینے والی تھی۔ لیکن یہ قدم صرف بلیوں کے لیے نہیں، بلکہ بچوں، فیملیز اور کمیونٹی کی حفاظت کے لیے بھی اہم ہے۔”
رہائشی پہلے ہی اپنی مدد آپ کے تحت بلیوں کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے ٹریپ، نیوٹر اور ریٹرن پروگرام چلا رہے ہیں اور سڑکوں سے ہٹ کر فیڈنگ اسٹیشن بھی بنائے گئے ہیں۔ تاہم، تیز رفتاری ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی تھی۔
چیکو نے بتایا کہ ایک بار انہوں نے "ٹونکل” نامی دو ہفتے کی زخمی بلی کے بچے کو ہٹ اینڈ رن کے بعد بچایا، جسے اندرونی زخموں اور آنکھوں کی چوٹ کے باوجود ہفتوں کی دیکھ بھال کے بعد صحت یاب کر کے کمیونٹی کے ایک گھر میں گود لے لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر ڈرائیور رکتے نہیں، جانور کو کچل کر چلے جاتے ہیں، اور اکثر یہ بلیاں سڑک کنارے تکلیف میں جان دے دیتی ہیں۔
دوسری طرف، گرمیوں میں رہائشیوں کے طویل چھٹیوں پر جانے کے باعث پالتو جانوروں کو چھوڑنے کے واقعات بڑھ جاتے ہیں، جو مقامی رضاکاروں اور پناہ گاہوں پر اضافی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ مقامی تنظیمیں ڈیجیٹل حل اختیار کر رہی ہیں۔
بیئرلوٹ کی "فیری فرینڈز” موبائل ایپ اسی جدت کی مثال ہے، جو گود لینے، فیڈنگ اور ویٹرنری وزٹس کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لاتی ہے، حتیٰ کہ اس میں ایک AI اسسٹنٹ بھی موجود ہے جو ذاتی نوعیت کے مشورے فراہم کرتا ہے۔ ایپ کی بانی رنیم الجاغوب نے کہا: "ہر جانور کو دوسرا موقع ملنا چاہیے۔ ہمارا مقصد ٹیکنالوجی اور کمیونٹی کے ذریعے ان کی زندگیاں بہتر بنانا ہے۔”
ابوظہبی میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ آوارہ جانور دیکھنے پر سینٹر آف ویسٹ مینجمنٹ کی ہاٹ لائن 800555 پر رابطہ کریں، جبکہ دبئی میونسپلٹی کے ویٹرنری کلینکس بھی اس حوالے سے سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم حکام نے تنبیہ کی ہے کہ آوارہ جانوروں کو خوراک دینے پر شہریوں کو جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔







