
دبئی: دبئی میں سونے کی قیمتیں پیر کی صبح معمولی کمی کے ساتھ ریکارڈ بلند سطح سے نیچے آگئیں، جہاں گزشتہ ہفتوں میں عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں میں تیزی کے باعث سونا نئی بلندیوں پر پہنچا تھا۔ صبح 8 بج کر 45 منٹ پر 24 قیراط سونا 542.75 درہم فی گرام جبکہ 22 قیراط سونا 502.50 درہم فی گرام پر فروخت ہوا۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر نئی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد ابتدائی کاروبار میں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس کی وجہ سرمایہ کاروں کا منافع سمیٹنا اور عالمی مارکیٹ میں محتاط رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا، جہاں سونا ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد معمولی پیچھے ہٹ گیا، جبکہ چاندی اور تانبے کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ گیا۔
دسمبر میں شدید اتار چڑھاؤ
دبئی میں دسمبر کے دوران سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ یکم دسمبر کو 24 قیراط سونا 511.75 درہم فی گرام تھا جو 26 دسمبر تک 545 درہم سے اوپر چلا گیا، یعنی ایک ماہ میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، تاہم ماہ کے اختتام پر اس میں کمی آئی۔ اسی طرح 22 قیراط سونا 473.75 درہم سے بڑھ کر 505 درہم سے اوپر گیا اور بعد ازاں نیچے آیا۔
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال مسلسل تین بار شرح سود میں کمی، مرکزی بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر خریداری اور امریکی ڈالر کی کمزوری نے قیمتی دھاتوں کی مجموعی تیزی کو تقویت دی۔ کم شرح سود کے باعث سونے جیسی غیر منافع بخش اثاثہ جات زیادہ پرکشش ہو جاتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال موجود ہو۔
چاندی کی تیزی میں وقفہ
چاندی میں غیر معمولی تیزی کے بعد اب قدرے ٹھہراؤ دیکھا جا رہا ہے، جہاں دہائیوں بعد پہلی بار قیمت 80 ڈالر فی اونس سے تجاوز کر گئی تھی۔ پیر کی صبح کاروبار میں چاندی 84 ڈالر فی اونس تک پہنچی، تاہم بعد ازاں تقریباً 5 فیصد تک گر کر مستحکم ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اس شدید اتار چڑھاؤ کی وجہ قیاس آرائی پر مبنی تجارت اور رسد کی کمی کے خدشات ہیں، کیونکہ عالمی ذخائر کئی سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
ایلون مسک نے بھی عالمی سطح پر چاندی کے ذخائر میں کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ چاندی کئی صنعتی عمل میں استعمال ہوتی ہے۔
چین کی جانب سے سال کے آغاز میں کیے گئے برآمدی اقدامات نے بھی سپلائی چین کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ چین دنیا میں چاندی کا سب سے بڑا صارف ہے، مگر وہاں زیادہ تر چاندی دیگر دھاتوں کی پیداوار کے ضمنی عمل کے طور پر حاصل ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی برآمدی پابندی پہلے سے نازک مارکیٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔
مجموعی طور پر قیمتی دھاتوں کے لیے ماحول اب بھی سازگار دکھائی دیتا ہے۔ 2026 میں امریکی فیڈ کی جانب سے مزید نرمی کی امیدیں، تیل پیدا کرنے والے خطوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مرکزی بینکوں کی ڈالر سے ہٹ کر ذخائر متنوع بنانے کی پالیسی، سونے اور چاندی کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہیں۔
اگرچہ اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے، تاہم تاجر حالیہ کمی کو وسیع تر تیزی کے رجحان میں ایک عارضی اصلاح قرار دے رہے ہیں۔ دبئی میں زیورات اور سرمایہ کاری کے لیے طلب کے مضبوط رہنے کی توقع ہے، کیونکہ خریدار اور سرمایہ کار نئے سال سے قبل قیمتوں کی نئی سطح کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر رہے ہیں۔






