
خلیج اردو: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایرانی نژاد برطانوی خاتون نازنین زغاری ریٹکلف کو فوری اور مستقل طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایران میں گرفتار ایرانی نژاد برطانوی خاتون نازنین زغاری ریٹکلف کورہا کردیا گیا ہے لیکن رہائی کے بعد ایک اور الزام میں نازنین کو 14 مارچ کو عدالت نے طلب کیا ہے۔
نازنین کے اہل خانہ نے کہا ہےکہ انہیں نہیں معلوم کہ دوبارہ عدالت طلبی کا کیا مقصد ہے، 42 برس کی نازنین کو 5 برس بعد رہا کیا گیا ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے نازنین کو گزشتہ برس جیل سے نکال کر تہران میں والدین کے گھر نظر بند کر دیا گیا تھا۔
نازنین زغاری’تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن’ میں پروجیکٹ مینیجر تھیں، انہیں اپریل 2016 میں تہران ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں ان پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور عدالت نے انہیں پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی۔







