خلیج اردو: ایرانی صدر ممکلت نے تہران- دوحہ کے برادرانہ اور بڑھتے ہوئے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خلیج فارس ممالک سے بھایی چارے پر مبنی تعلقات اور مذاکرات کے خواہاں ہیں۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر حسن روحانی نے بدھ کی رات امیر قطر سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں نئی تبدیلیوں کیساتھ خطے کے کچھ ممالک کی معاندانہ پالیسیوں میں کمی آئے گی اور ہم خطے کے اندر بات چیت اور باہمی مفاہمت کے مواقع کی تقویت کا مشاہدہ کریں گے۔
صدر روحانی نے تہران اور دوحہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعلقات کی توسیع پر زور دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ پر زور دیا۔
انہوں نے بعض عرب ملکوں کیجانب سے علاقے اور اسلامی ممالک کے دشمن ناجائز صہیونی ریاست سے تعلقات استوار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے دیا۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک اپنے مسائل کو مذاکرات سے حل کرسکتے ہیں اور بے شک آنے والے مہینوں کے دوران باہمی تعاون سے علاقائی تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
انہوں نے امیر قطر کیجانب سے دورہ دوحہ کی با ضابطہ دعوت پر اس امید کا اظہار کرلیا کہ وہ مناسب وقت پر قطر کے دورے پر جا سکیں گے۔
در این اثنا امیر قطر "شیخ تمیم بن حمد آل ثانی” نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو اسٹرٹیجک قرار دیتے ہوئے تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں طے پانے والے باہمی معاہدوں کے جلد از جلد نفاذ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ تمام شعبوں بالخصوص علاقائی پانیوں کی سلامتی کے تحفظ سے متعلق ایران اور خلیج فارس ملکوں کے درمیان تعاون میں مزید اضافہ ہونا ہوگا۔
امیر قطر نے کہا کہ ہم سب خطے کے بعض غیر ذمہ دار ملکوں کے سلوک سے نقصان میں ہیں اور ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی تبدیلیوں کے تناظر میں ایران اور خلیج فارس ملکوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی ہوگی۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ممکلت کو دورہ قطر کی باضابطہ دعوت دی۔







