خلیجی خبریںعالمی خبریں

ٹرمپ پالیسیوں کا عرب دنیا پر اثر، خلیجی سٹاک مارکیٹس زمین بوس

خلیج اردو
ریاض: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور امریکی ٹیرف کے اثرات بالآخر عرب ملکوں تک پہنچ گئے ہیں، جہاں خلیجی سٹاک مارکیٹس تاریخ کی بدترین مندی کا شکار ہو گئیں، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔

سعودی سٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 500 ارب ریال کا نقصان ہوا ہے، جب کہ دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کو صرف شیئرز کی مد میں 340 ارب ریال کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

دیگر خلیجی ریاستوں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں رہی۔ کویت سٹاک مارکیٹ میں 6.6 فیصد اور قطر سٹاک مارکیٹ میں 5.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ مسقط، عمان اور بحرین کی سٹاک مارکیٹس میں بھی زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جو کہ مئی 2020 کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی مندی ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق اس شدید مندی کی بنیادی وجوہات میں امریکی ٹیرف کا نفاذ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت معاشی پالیسیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی ذرائع کا کہنا تھا کہ "کبھی کبھی دوائی لینی پڑتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button