لائف سٹائل

جب پڑھائی دباؤ بن جائے: طلبہ کے لیے آرام اور توازن کیوں ضروری ہے

 

خلیج اردو

“صرف پڑھائی اور کوئی کھیل نہیں، تو جیک بھی ناسمجھ بن جائے گا” — یہ پرانا مقولہ آج کے تعلیمی دباؤ میں پہلے سے کہیں زیادہ سچ محسوس ہوتا ہے۔

تعلیم زندگی کا اہم حصہ ہے، مگر صرف پڑھائی پر توجہ دے کر ذہنی اور جسمانی توازن کھونا بچوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک 13 سالہ طالب علم کی مثال سامنے آئی جو روزانہ گھنٹوں مطالعہ کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ موٹاپے، نیند کی کمی اور کمزور صحت کا شکار ہو گیا۔ یہاں تک کہ چہل قدمی یا معمولی گھریلو کام بھی اس کے لیے دشوار بن گئے۔

زیادہ نمبر حاصل کرنے کی دوڑ نے اسے دوستوں سے بھی دور کر دیا۔ اگرچہ وہ تعلیمی میدان میں ممتاز رہا، مگر سماجی اور جذباتی طور پر کمزور ہوتا چلا گیا۔ یہ صورتحال ایک اہم سوال اٹھاتی ہے — کیا کلاس میں سب سے آگے رہنے کا دباؤ واقعی صحت اور خوشی سے زیادہ قیمتی ہے؟

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button