
خلیج اردو
عالمی سفری پابندیوں میں اضافے کے باوجود متحدہ عرب امارات نے مسلسل ساتویں سال دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ ہونے کا اعزاز برقرار رکھا ہے۔ آریٹن کیپیٹل کی جانب سے جاری ہونے والے پاسپورٹ انڈیکس 2025 کے مطابق یو اے ای اس سال بھی سب سے آگے رہا، جبکہ دنیا کے بڑے ممالک کے پاسپورٹس سفری پابندیوں کی وجہ سے کمزور پڑتے گئے۔
آریٹن کیپیٹل کے سی ای او آرمانڈ آریٹن نے کہا کہ دنیا میں سفری آزادی سکڑتی جا رہی ہے اور کووڈ کے بعد کھلنے والے دروازے دوبارہ محدود ہورہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یو اے ای نے اپنی عالمی رسائی کو برقرار رکھنے کے ساتھ مزید مضبوط کیا ہے۔ ان کے مطابق ارب پتی افراد بھی سخت ہوتی سفری پابندیوں کے سبب محفوظ اور مستحکم مقامات کی تلاش میں ہیں، اور یو اے ای اپنی عالمی شہرت، اعلیٰ معیارِ زندگی اور بے مثال سفری سہولتوں کی وجہ سے ان کے لیے مرکز بنا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی پاسپورٹ نے 129 ممالک میں ویزا فری، 45 ممالک میں ویزا آن ارائیول اور آٹھ ممالک میں ای ٹی اے کی سہولت برقرار رکھتے ہوئے 179 کا مضبوط اسکور حاصل کیا۔ آریٹن کا کہنا ہے کہ اس طاقت کے پیچھے برسوں کی سفارتی حکمت عملی، پائیدار دو طرفہ تعلقات اور یو اے ای کی اقتصادی حیثیت شامل ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے ممالک اماراتی شہریوں کو زیادہ آسان داخلے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ کینیڈا جیسے ممالک کی جانب سے ای ٹی اے تک رسائی نے بھی اس اسکور کو مزید تقویت دی ہے۔
ایک مضبوط پاسپورٹ شہریوں کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت کے لیے بھی اہم فوائد رکھتا ہے۔ شہریوں کے لیے تعلیم، کاروبار، سرمایہ کاری اور سیاحت کے مواقع آسان ہوتے ہیں جبکہ معیشت کے لیے عالمی رابطے مضبوط ہوتے ہیں، کاروباری وسعت ممکن ہوتی ہے اور دنیا بھر سے ٹیلنٹ اور سرمایہ کار ملک کی طرف راغب ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایشیائی ممالک بھی تیزی سے اس دوڑ میں آگے آ رہے ہیں۔ سنگاپور نے 2025 میں 30ویں سے دوسری پوزیشن حاصل کرتے ہوئے 175 اسکور حاصل کیا۔ ملائیشیا بھی 41ویں سے 17ویں نمبر پر آ گیا، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کی طاقت بھی برقرار ہے۔ یورپی پاسپورٹس اب بھی ٹاپ 20 میں غالب ہیں لیکن یوکرین جنگ، سیکورٹی اقدامات اور ویزا پالیسیوں کی تبدیلی کے باعث ان کے اسکور میں کمی واقع ہوئی ہے۔
برطانیہ 32 سے 39 ویں نمبر پر جا پہنچا، جبکہ امریکہ اور کینیڈا بھی پیچھے ہٹتے ہوئے 40 اور 41 ویں نمبر پر چلے گئے۔ ایک وقت میں دنیا کے سب سے طاقتور پاسپورٹ سمجھے جانے والے یہ ممالک اب ابھرتی ہوئی ریاستوں سے پیچھے رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی شہری اپنی ترجیحات بدل رہے ہیں۔
2025 میں ورلڈ اوپenness اسکور میں نمایاں کمی، کئی ممالک کی نئی سفری پابندیوں اور سخت ویزا شرائط نے دنیا کو زیادہ تقسیم شدہ بنا دیا ہے۔ اس صورتحال میں یو اے ای کا پاسپورٹ نہ صرف اپنا مقام برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ دنیا کے لیے ایک پرکشش سفری مرکز بن چکا ہے۔







