
خلیج اردو
اگر آپ کا بچہ رات میں پسینہ پسینہ ہو کر جاگتا ہے، چڑچڑا رہتا ہے یا بار بار کمبل پھینک دیتا ہے تو ممکن ہے کہ مسئلہ اس کے سونے کے کپڑوں میں ہو۔ ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے صحیح نائٹ ویئر نہ صرف آرام بلکہ پُرسکون نیند کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
نیند کے دوران جسم کا درجہ حرارت ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ بچوں کا جسم بڑوں کے مقابلے میں حرارت کو کنٹرول کرنے میں کم مؤثر ہوتا ہے، اس لیے نرم، سانس لینے والے اور ہلکے کپڑے بہتر نیند میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت یا مصنوعی کپڑے حرارت اور نمی کو روک لیتے ہیں، جس سے جِلد میں خارش یا جلن ہوسکتی ہے، جبکہ نوزائیدہ بچوں کے لیے یہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
فیملی فزیشن ڈاکٹر روحیل بادیانی کے مطابق بچوں کے سونے کا لباس ان کی نیند کے معیار پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ اگر کپڑا بہت موٹا یا مصنوعی ہو تو وہ جسم میں حرارت جمع کرتا ہے، نتیجتاً بچہ بار بار جاگتا ہے۔ دوسری جانب ہلکے اور قدرتی کپڑے، جیسے کہ کاٹن یا بانس (Bamboo)، جسم کو آرام دہ رکھتے ہیں اور بہتر نیند فراہم کرتے ہیں۔
دبئی جیسے گرم موسم میں موسم کے لحاظ سے تبدیلی ضروری ہے۔ گرمیوں میں ہلکے بانس یا کاٹن کے کپڑے موزوں رہتے ہیں، جب کہ سردیوں میں ہلکی آستین والے کاٹن پاجامے اور ایک ہلکا کمبل کافی ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، لباس کا فِٹ بھی اہم ہے۔ بہت ڈھیلے کپڑے سوتے وقت چہرے پر آسکتے ہیں، جب کہ بہت تنگ کپڑے غیر آرام دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے معتدل، نرم اور لچکدار کپڑے بہترین انتخاب ہیں، جو جسم کے ساتھ حرکت کرتے رہیں اور حرارت کو باہر نکلنے دیں۔
نتیجہ یہی ہے کہ اگر آپ کے بچے کے پاجامے گرم، سخت یا غیر سانس لینے والے ہیں تو ان کا سونے کا لباس بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ بہتر نیند کا آغاز بہتر لباس سے ہوتا ہے۔







