متحدہ عرب امارات

نایاب ہزار سال پرانی قرآنِ پاک کی خطاطی کی نقل شارجہ بک فیئر میں نمائش کے لیے پیش

خلیج اردو
شارجہ: چوالیسویں شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں اسلامی فنِ خطاطی کی نایاب جھلک پیش کی گئی ہے جہاں معروف خطاط ابو الحسن علی بن ہلال، المعروف ابن البواب کے ہاتھ سے لکھی گئی ہزار سال قدیم قرآنِ پاک کے نسخے کی نقل (فیکسیمیلی ایڈیشن) کی نمائش کی جا رہی ہے۔

یہ خوبصورت نقل تہران کے "صفیر اردہال” کے اسٹال پر رکھی گئی ہے جہاں آنے والے زائرین ابتدائی عربی خطاطی کی خوبصورتی اور باریکیوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ صفیر اردہال کے نمائندے حامد دشداشتی کے مطابق، "یہ قرآن ان قدیم ترین مکمل نسخوں میں سے ایک ہے جو کسی معروف ہاتھ سے لکھا گیا۔ اصل نسخہ 391 ہجری، یعنی تقریباً سن 1000 عیسوی میں ابن البواب نے تحریر کیا تھا، اور فی الحال یہ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں واقع چیسٹر بیٹی لائبریری میں محفوظ ہے۔ ابن البواب نے عربی خط کو محض تحریر نہیں بلکہ ایک روحانی اور متوازن فن کی صورت دی۔”

قرآن کا یہ نسخہ نسخ خط میں لکھا گیا ہے، جسے ابن البواب نے نہ صرف متعارف کرایا بلکہ کمال درجے تک پہنچایا۔ ہر صفحے پر سولہ سطریں ہیں جن میں الفاظ کا توازن، فاصلہ اور تناسب بے مثال ہے۔ دشداشتی کے مطابق، "اس قرآن میں ہر حرف اپنی جگہ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ ابن البواب کے نزدیک خوبصورتی توازن میں ہے — ہر لکیر، ہر نقطہ ہم آہنگی اور ترتیب کا مظہر ہے۔”

ابتدائی قرآنی خطوط جیسے کوفی رسم الخط زاویہ دار اور سخت تھے، لیکن ابن البواب کے نسخ نے نرمی اور روانی پیدا کی۔ ان کے الفاظ شاعری کی طرح بہتے ہیں، اور آج بھی عربی طباعت و ڈیزائن انہی اصولوں پر قائم ہے جو انہوں نے ہزار برس قبل وضع کیے تھے۔

دشداشتی نے بتایا کہ چیسٹر بیٹی میں موجود قرآن غالباً مکمل طور پر ابن البواب ہی کا تحریر کردہ اور مزین کردہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف آیات لکھیں بلکہ سونے کے رنگ کی تزئین اور سرخیاں بھی خود تیار کیں۔ "تحریر، سنہری نقوش، پھولوں کے بارڈر — سب ایک ہی ہاتھ کے کمالات ہیں۔”

ابن البواب نے قدرتی سیاہی استعمال کی جو دھوئیں اور صمغِ عربی سے تیار کی جاتی تھی، جبکہ ان کا قلم خاص زاویے پر تراشا ہوا نی کا قلم تھا جو ایک ہی حرکت میں موٹی اور باریک لکیر کھینچ سکتا تھا۔ یہ نسخہ جھلی (ویلَم) پر لکھا گیا ہے، جو جانوروں کی کھال سے تیار کی جانے والی ہموار سطح ہے، اور اسی بنا پر یہ ہزار برس تک محفوظ رہا۔

دشداشتی کے مطابق، "یہ نقل صرف ایک پرانی کتاب نہیں بلکہ تاریخ اور فن کی ایک کھڑکی ہے۔ یہاں جو کچھ آپ دیکھتے ہیں وہ خالص انسانی مہارت کا نتیجہ ہے۔ کوئی مشین وہ ہم آہنگی پیدا نہیں کر سکتی جو سیاہی، قلم اور ایمان کے ملاپ سے جنم لیتی ہے۔”

اصل قرآنِ پاک کا نسخہ آج بھی اسلامی تہذیب کے انمول خزانوں میں شمار ہوتا ہے، جو چیسٹر بیٹی لائبریری میں انتہائی احتیاط سے محفوظ ہے۔ "تاہم اس کی نقل کا شارجہ میں موجود ہونا بھی کم اہم نہیں، کیونکہ یہ ہمیں مسلم فنکاروں کی عظمت اور ان کے فن کی لازوال تاثیر کی یاد دلاتی ہے،” دشداشتی نے کہا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button