متحدہ عرب امارات

امارات: بچوں کے ساتھی طلبہ کو زخمی کرنے پر والدین کو 65 ہزار درہم جرمانہ

خلیج اردو
العین: اسکول میں ہونے والے تشدد اور بدمعاشی کے سنگین نتائج سامنے آ گئے۔ العین کی سول، کمرشل اور انتظامی دعوؤں کی عدالت نے دو علیحدہ مقدمات میں والدین کو اپنے بچوں کے تشدد آمیز رویے پر مالی طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مجموعی طور پر 65 ہزار درہم تاوان ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

پہلے مقدمے میں عدالت نے ایک والد کو 30 ہزار درہم ادا کرنے کا پابند کیا، کیونکہ اس کے دو بیٹے بارہا اپنے ایک ہم جماعت کو تنگ کرتے، مارتے اور اس کی ویڈیو بناتے رہے۔ اس مسلسل بدسلوکی سے متاثرہ طالبعلم میں خوف، ذہنی دباؤ اور جذباتی عدم توازن پیدا ہوا۔ دونوں کم عمر ملزمان کو اس حوالے سے فوجداری مقدمے میں پہلے ہی قصوروار قرار دیا جا چکا تھا، جس میں جسمانی اور نفسیاتی نقصان کی تصدیق بھی ہوئی۔

دوسرے مقدمے میں متعدد سرپرستوں کو مشترکہ طور پر 35 ہزار درہم ادا کرنے کا حکم دیا گیا، کیونکہ ان کے بچوں نے ایک اور طالبعلم پر نوکیلے آلات سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسے متعدد زخم آئے۔ فوجداری عدالت نے ان کم عمر حملہ آوروں کی سزاؤں کو اپیل پر بھی برقرار رکھا اور قرار دیا کہ سرپرست اپنے بچوں کی مناسب نگرانی میں ناکام رہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ طالبعلم کو جسمانی چوٹوں کے ساتھ شدید ذہنی صدمہ بھی پہنچا جس کے باعث وہ کئی دن تک معمول کی سرگرمیاں انجام دینے سے قاصر رہا۔

فیصلے میں شہری لین دین کے قانون کے آرٹیکل 313 کا حوالہ دیا گیا جس کے تحت سرپرست اس نقصان کے ذمہ دار ہوتے ہیں جو ان کی نگرانی میں موجود نابالغ بچوں سے پیش آتا ہے، اگر مناسب نگرانی نہ کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ والدین کی ذمہ داری صرف گھر تک محدود نہیں بلکہ اسکول اور دیگر مقامات تک بھی پھیلتی ہے جہاں ان کے بچوں کا رویہ دوسروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ فوجداری مقدمات کے نتائج سول ذمہ داری کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جن میں غلطی کا ثبوت، نقصان کی حد اور تاوان کا تعین شامل ہے۔

العین عدالت کے ان فیصلوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ بچوں کے ہاتھوں بدسلوکی یا تشدد نہ صرف فوجداری سزا کا باعث بن سکتا ہے بلکہ والدین کے لیے بھاری مالی ذمہ داریوں کا موجب بھی بنے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button