متحدہ عرب امارات

ایک وقت میں مسترد، مگر خواب سے نہ ہاری — امارات کی پہلی ’خاتون آف ڈیٹرمنیشن‘ ڈاکٹر بننے والی نوف المعینی کی کہانی

خلیج اردو
ابوظہبی: ایک خواب جو بچپن میں والد کے کلینک میں جاگا، آج ایک تاریخی حقیقت بن چکا ہے۔ ڈاکٹر نوف حسن المعینی نے امارات کی تاریخ رقم کر دی ہے، وہ پہلی اماراتی خاتون آف ڈیٹرمنیشن ہیں جنہوں نے بطورِ معالج (میڈیکل ڈاکٹر) اپنی پہچان بنائی۔

ڈاکٹر نوف کا شوق اپنے والد سے جڑا ہوا ہے جو ایک نرس تھے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں ایک سادہ اماراتی خاندان میں پلی بڑھی، جو تعلیم اور انسانیت کی خدمت سے محبت کرتا ہے۔ بچپن میں اسکول کے بعد والد کے ساتھ کلینک جاتی اور انہیں مریضوں کا خیال رکھتے دیکھتی تھی۔ وہیں سے میرے دل میں ڈاکٹر بننے کا خواب جاگا۔‘‘

ایمرجنسی روم میں فیصلہ کن لمحہ

ان کی پیشہ ورانہ دلچسپی ایک انٹرن شپ کے دوران پیدا ہوئی۔ ’’میں نے ریڈیولوجی کا انتخاب اس وقت کیا جب میں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ایک پیچیدہ کیس حل کیا۔ ایک مریض کے سینے کے ایکسرے سے معلوم ہوا کہ اس کے دائیں طرف کے اعضا پھیپھڑوں کی جگہ منتقل ہو گئے ہیں۔ اس لمحے نے مجھے ریڈیولوجی سے جوڑ دیا کیونکہ یہ شعبہ ہر عمر کے مریضوں سے تعلق رکھتا ہے اور اسپتالوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔‘‘

مشکلات کے باوجود استقامت اور ایمان

ڈاکٹر نوف کی زندگی آسان نہیں رہی۔ اچانک انہیں ایک نایاب بیماری لاحق ہوئی جو دراصل گٹھیا (رہیومٹزم) کی ایک غیر معمولی قسم تھی۔ علاج کے لیے انہوں نے مختلف اسپتالوں اور ممالک کا سفر کیا مگر حالت بگڑتی گئی اور بالآخر گینگرین کے باعث ان کی ایک ٹانگ اور چند انگلیاں کاٹنی پڑیں۔

انہوں نے بتایا، ’’میری ٹانگ ضائع ہونے کے بعد جب میں نے طب کی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کی تو مجھے داخلے سے انکار کر دیا گیا، مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ میں نے کمیٹی کو قائل کیا کہ مجھے امتحان دینے کی اجازت دی جائے، اور بالآخر میں کامیابی سے فارغ التحصیل ہوئی۔‘‘

وہ کہتی ہیں، ’’ان چیلنجز پر قابو پانا میرے ایمان، خاندان، دوستوں، اور قیادت کی تعلیم و علاج میں مدد کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔‘‘

ڈاکٹر نوف کے مطابق ان کی جسمانی معذوری ہی ان کی سب سے بڑی تحریک بن گئی۔ ’’جب تک میں سانس لے رہی ہوں، میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ دل کی دھڑکن کا مطلب ہے کہ زندگی باقی ہے — اور جب تک زندگی ہے، خواب دیکھنا اور پورا کرنا میرا حق ہے۔‘‘

پیشہ ورانہ کامیابی اور خدمت کا جذبہ

ڈاکٹر نوف فی الحال سیہا (SEHA) میں ریڈیولوجی ورٹیکل کی بزنس آپریشن منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ اپنی سی ای او ڈاکٹر یاسمین مہر کو اپنی پیشہ ورانہ رہنما قرار دیتی ہیں۔ ’’ڈاکٹر یاسمین نے مجھے سکھایا کہ قیادت اور طبی علم کس طرح مریضوں کی حفاظت اور نظامِ صحت کی بہتری کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘

ڈاکٹر نوف کے نزدیک کامیابی عہدے سے نہیں بلکہ روزمرہ خدمت سے جڑی ہے۔ ’’جب میں کسی مریض کی مدد کرتی ہوں اور اس کے لیے تجربہ آسان اور محفوظ بناتی ہوں، وہی میری اصل کامیابی ہے۔‘‘

شمولیت پر مبنی مستقبل کا وژن

ڈاکٹر نوف لوگوں کو حوصلہ دینے والی شخصیت ہیں اور افرادِ عزم (People of Determination) کے حقوق کی مضبوط حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’’امارات میں معذور افراد کے حقوق اور کام کی جگہ پر ان کے لیے سہولتوں سے متعلق آگاہی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

ان کا خواب ہے کہ وہ اماراتی قیادت میں ایک ایسا کردار ادا کریں جو عالمی سطح پر مثبت تبدیلی کی علامت بنے۔ وہ چاہتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں افرادِ عزم کو معاشرے کے ہر شعبے میں مکمل شرکت اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔

نوجوان اماراتی خواتین، خصوصاً معذور لڑکیوں کے لیے ان کا پیغام نہایت حوصلہ افزا ہے: ’’اپنے خوابوں سے مت ہٹیں۔ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں۔ جب تک خود کوشش نہیں کریں گی، راستہ نہیں بنے گا۔ جو راستہ پسند ہے، وہی اپنائیں اور سفر کا لطف لیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button