لائف سٹائلعالمی خبریں

واٹس پرائیویسی پالیسی کی مخالفت ایک طرف ، کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ نئی تبدیلیاں ہیں کیا؟

خلیج اردو
10 جنوری 2021
نیویارک : آج کل سوشل میڈیا پر ایک چیز جس کا کافی چرچا ہے وہ ہے پیغامات بھجوانے کے لیے دنیا بھر میں زیادہ استعمال ہونے والے اپلیکشن واٹس اپ کی نئی پرایئویسی جس کے بارے میں صارفین اپنی نارضگی اور ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔ واٹس اپ کی نئی پالیسی ہے کیا ، اس بارے میں ہم قارئین کیلئے وضاحت کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

واٹس اپ نے اپنے صارفین کو اپلیکشن بارے ایک پاپ اپ میسج بھیجا ہے یا وارننگ دی ہے جس میں بتایا ہے کہ وہ اپنی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کے پاس اب یا تو اس اپلیکشن سے خود کو نکالنے کی ضرورت ہے یا پھر نئے ٹرمز اینڈ پالیسی کو قبول کرنا ہے۔ تو ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ اس پالیسی سے ہوگا کیا؟ اس کا جواب دینے کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جو واٹس اپ نے اپنے ٹرمز آف سروسز کو اپڈیٹ کیا ہے۔ ایسا سافٹ ویئر کرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی ساخت اور شرائط میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ صارفین شرائط و ضوابط کو قبول کرکے آگے بڑھتے ہیں لیکن واٹس اپ کی صورت میں ایسا کیون نہیں اور ہنگامہ کیوں برپا ہے؟

ایسا اس لیے ہے کہ اپلیکیشن نے اپنے پیرنٹ کمپنی فیس بک کو واٹس اپ کی معلومات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں صارفین کے پاس 8 فروری تک کا وقت ہے کہ وہ نئے شرائط و ضوابط کو قبول کریں یا اپلیکشن سے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کریں۔

آئیے ملاحظہ کریں کہ یہ تبدیلیاں کیا ہیں؟
پرانے ورژن میں پرائیویسی کے بارے میں لکھا تھا کہ آپ کی پرائیویسی کی قدر کرنا ہمارے ڈی این اے یعنی بنیادی ضوابط اور اصول کا حصہ ہے۔ واٹس اپ بناتے وقت ہم نے لازمی بنایا ہے کہ کسی صارف کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھیں۔ اب یہ الفاظ شرائط و ضوابط میں موجود نہیں ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ آپ کے میسجز کو غیر محفوظ بنایا جائے گا۔ اب بھی واٹس اپ کے آپ کے پیغامات محفوظ ہوں گے اور اسے نہ تو واٹس اپ دیکھ سکے گا نہ اسے کسی کے ساتھ شیئر کرے گا۔ تاہم نئی پالیسی میں فیس بک کے ساتھ کافی کچھ کو لنک کیا گیا ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے اور خوشی کی خبر ہے۔

اصل خطرہ کونسی جگہ ہے؟
فکر کی بات یہ ہے کہ جب آپ فیس بک یا کسی تھرڈ پارٹی میں لاگ ان کریں گے جو فیس بک کی ملکیت ہے توان اپلیکیشن کو آپ کی ویٹس اپ معلومات مل سکیں گی۔ دوسرے الفاظ میں واٹس اپ بھی جب آپ بھی جیسے ہی اپ لاگ ان کریں گے تو آُ کی معلمات جیسے آئی پی ایڈریس کو فیس بک کی ملکیت میں موجود اپلیکیشن کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں بدلا لیکن واٹس اپ نے خود کو وسیع کرنا شروع کیا ہے اور واٹس اپ جسے ڈیٹا شیئرنگ اپلیکشن کہا جاتا تھا اب حقیقت میں اپنی وسعت کی پالیسی پر گامزن ہوا ہے۔ یہاں فکرمند ہونے کی وجہ یہ ہے جہ جیسے باقی اپلیکشن میں آپ کو سٹوریج کیلئے جگہ دی جاتی ہے اور آپ کا چیٹ محفوظ کیا جاتا ہے ، اب یہاں بھی خدشہ ہے کہ آپ کے انتہائی ذاتی نوعہت کے پیغامات اور تصایوروں کے تبادلے کو واٹس اپ انتظامیہ دیکھ پائیں گے۔

یہاں تک تو سافٹ ویئر سے متعلق معلومات تھیں ، کیا واٹس اپ آپ کے ہارڈ ویئر سے متعلق بھی معلوم کر پائے گا؟
ابھی تک مکی معلومات کے مطابق یہ درست ہے کہ واٹس اپ آپ کے ڈیوائسز کے بارے میں بھی جان پائے گا۔ جیسے کہ آُ کا فون کونسا ہے ، کونسا نیٹ ورک ہے، آپ کی زبان اور ٹائم زون اور علاقہ سمیت آئی پی ایڈریس شامل ہے ۔ پچھلی پرائیویسی پالیسی میں ایسا کچھ نہیں تھا۔

اگر آپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ بھی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کیلئے اپڈیٹس ہیں۔

اگر آپ نے واٹس اپ کو اپنے ڈیوائس سے ڈیلیٹ بھی کیا لیکن ابھی تک آپ نے اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہیں کیا تو اب بھی آپ کی معلومات موجود ہیں جب تک آُ نے ڈیلیٹ مائی اکاؤنٹ کا فیچر استعمال نہیں کیا تب تک آپ کی معلومات اسٹوریج میں رہیں گی۔ اسی لیے صرف اپیکیشن ڈیلیٹ کرنا کافی نہیں ہوگا۔

آپ کی ڈیٹا لوکیشن اور اسٹوریج کے حوالے سے کیا اپڈیٹس ہیں؟
واٹس اپ اپنے پرائیویسی پالیسی میں ہمیشہ ذکر کرتا آیا ہے کہ وہ پرائیویسی سے متعلق ڈیٹا اسٹوریج کیلئے فیس بک کا ڈیٹا سنٹراستعمال کرتا ہے۔ تاہم پچھلی پالیسی میں لوکیشن سے متعلق فیچر موجود نہیں تھا۔ اب اگر آپ اس فیچر میں معلومات نہیں بھی دیتے تو بھی آپ کی آئی پی ایڈریس سے واٹس اپ خودکار طریقے سے آپ کی لوکیشن سے متعلق ڈیٹا محفوظ رکھے گا۔ واٹس اپ کو پتا ہوگا کہ آپ کہاں سے ہیں۔

آپ نے اس کے بعد کیا سوچا ہے۔ کیا آپ اپنا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کریں گے یا سمجھوتہ کریں گے ؟ ہمیں بتائیے گا ضرور۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button