پاکستانی خبریں

نور مقدم قتل کیس بالکل اُسی فتنے کا نتیجہ ہے جو اعلیٰ طبقے میں پھیل رہا ہے جسے ہم "لِوِنگ رِلیشن شپ” کہتے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم کیس میں اضافی نوٹ جاری کر دیا

خلیج اردو
سپریم کورٹ میں نور مقدم قتل کیس کے فیصلے کے ساتھ جسٹس علی باقر نجفی نے اضافی نوٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کیس معاشرے کے اُس فتنے کا نتیجہ ہے جو اعلیٰ طبقے میں ’’لِونگ رلیشن شپ‘‘ کے نام سے پھیل رہا ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں، وقوعہ کے وقت معمولی تضادات، پوسٹمارٹم میں تاخیر، چھری پر فنگر پرنٹس نہ ملنے یا ایف آئی آر میں معمولی تاخیر جیسے اعتراضات پراسیکیوشن کے ٹھوس شواہد کو کمزور نہیں کرتے۔
اضافی نوٹ کے مطابق ملزم کا ڈی این اے میچ کر چکا تھا، رسّی کا ایک سرا نور مقدم کی لاش سے اور دوسرا ملزم کے گلے سے بندھا ہوا تھا، جبکہ پراسیکیوشن کے پاس مضبوط حالاتی شواہد موجود تھے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے نشاندہی کی کہ ’’لِونگ رلیشن شپ‘‘ سماجی ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈالنے، ملکی قانون کی خلاف ورزی اور شرعی احکام کی صریح نفی ہے، جو بالآخر اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو تنبیہ کی کہ ایسے تعلقات کے خوفناک نتائج کو ہمیشہ مدنظر رکھا جائے۔
سپریم کورٹ پہلے ہی ظاہر جعفر کی سزائے موت کو قتل کی دفعات میں برقرار رکھ چکی ہے جبکہ ریپ کیس میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا گیا۔ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کی سزا کم کرکے ایک سال کر دی گئی، نور مقدم کے اہلخانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا فیصلہ برقرار رہا۔ مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو رہا کرنے کے احکامات بھی برقرار کیے گئے تھے۔ ظاہر جعفر نے اس فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button