
خلیج اردو
رمضان المبارک کا آغاز روایتی طور پر چاند دیکھنے سے کیا جاتا ہے اور یہ اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ دبئی کے اسلامی امور اور فلاحی سرگرمیوں کے محکمہ (IACAD) کے ہجری سے گریگورین تاریخ کے کنورژن ٹول کے مطابق رمضان 2026 کے آغاز کی توقع 17 سے 19 فروری کے درمیان ہے، جبکہ پہلا روزہ غالباً جمعرات، 19 فروری کو ہوگا۔
جو افراد روزہ نہیں رکھتے، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ روزہ داروں کے احترام میں بعض آداب کا خیال رکھیں۔
عوامی مقامات پر کھانے پینے اور سگریٹ نوشی سے گریز
رمضان کے روزوں کے اوقات میں عوامی مقامات پر کھانا، پینا یا سگریٹ نوشی نہیں کی جا سکتی۔ یہ پابندی تمام عوامی مقامات، پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ پر لاگو ہوتی ہے اور مذہب سے قطع نظر سب کے لیے احترام کی علامت ہے۔ ریسٹورنٹس ڈائن اِن اور ٹیک اوے کے لیے کھلے رہتے ہیں، تاہم دبئی میونسپلٹی کے مطابق رمضان میں تمام ریسٹورنٹس، کیفے، شیشہ کیفے اور ہوٹل سہولیات صبح 4 بجے بند ہوں گی جبکہ آخری آرڈر 3 بجے تک لیا جائے گا۔ اس سال دبئی اور ابوظبی میں روزے کے اوقات کے دوران ڈائننگ ایریاز پر اسکرین لگانا لازمی نہیں ہوگا۔
لباس میں سادگی
رمضان کے دوران غیر مناسب یا زیادہ نمایاں لباس سے پرہیز کیا جانا چاہیے، خاص طور پر مالز، ہوٹلوں اور شام کے وقت ریسٹورنٹس میں۔ عام اصول کے تحت شفاف، بہت چھوٹے، زیادہ تنگ یا بازوؤں کے بغیر لباس، شارٹس اور منی اسکرٹس سے اجتناب بہتر سمجھا جاتا ہے۔
دفاتر میں آداب
کاروباری اداروں کو کم اوقاتِ کار کا احترام کرنا چاہیے، چاہے کام گھر سے ہی کیوں نہ کیا جا رہا ہو۔ اگرچہ گھروں سے کام کرنے کی صورت میں طویل دن ممکن ہوتا ہے، پھر بھی سرکاری طور پر مقرر کردہ مختصر اوقاتِ کار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
کھانے اور تفریحی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی
کھانے اور تفریحی منصوبوں میں لچک رکھی جائے۔ غروبِ آفتاب سے ایک گھنٹہ قبل غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے کیونکہ اس وقت ٹریفک زیادہ اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح افطار کے وقت کے قریب ڈنر ریزرویشن سے بھی پرہیز بہتر ہے کیونکہ ریسٹورنٹس افطار کی تیاری اور سروس میں مصروف ہوتے ہیں۔
عوامی مقامات پر غیر مناسب قربت سے اجتناب
عوامی مقامات پر قربت کا اظہار عام دنوں میں بھی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ رمضان میں اس پر مزید زور دیا جاتا ہے۔
رمضان مارکیٹس اور خریداری
رمضان کی راتوں میں لگنے والی نائٹ مارکیٹس اور عارضی بازار اس مہینے کی خاص بات ہوتے ہیں۔ ان میں روایتی کھانے، تحائف اور خریداری کے بہترین مواقع ہوتے ہیں اور یہ سماجی میل جول کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔
خیرات اور خوش اخلاقی
رمضان میں متحدہ عرب امارات میں سخاوت اور سماجی تعاون پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ امارات ریڈ کریسنٹ اور خلیفہ بن زاید النہیان فاؤنڈیشن سمیت مختلف فلاحی ادارے ملک بھر میں مفت افطار دسترخوان قائم کرتے ہیں جہاں ہر طبقے کے افراد کے لیے کھانے کا انتظام ہوتا ہے۔ مساجد روحانی سرگرمیوں کا مرکز بن جاتی ہیں جہاں قرآن کی تلاوت، دروس اور تعلیمی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، جبکہ زکوٰۃ کے حوالے سے آگاہی مہمات کے ذریعے مستحق افراد کی مدد کی ترغیب دی جاتی ہے۔






