معلومات

واٹس ایپ نے چیٹ بیک اپ کے لیے پاس کی متعارف کر دیا، اب پاس ورڈ کی ضرورت نہیں

 

خلیج اردو

دبئی: واٹس ایپ نے صارفین کے لیے نیا سیکیورٹی فیچر متعارف کروا دیا ہے، جس کے تحت اب چیٹ بیک اپ کو محفوظ رکھنے کے لیے پاس ورڈ یاد رکھنے یا 64 ہندسوں کے انکرپشن کوڈ سنبھالنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ نئی سہولت میں پاس کی (Passkey) سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جو چہرے یا فنگر پرنٹ کے ذریعے بیک اپ کو ان لاک کرے گا۔

یہ فیچر 2021 میں متعارف کرائی گئی اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ بیک اپ سروس کی اپ گریڈ شکل ہے، جس میں صارفین کو خود طویل ریکوری کیز محفوظ رکھنی پڑتی تھیں۔ نئی ٹیکنالوجی اب اس ضرورت کو ختم کرتی ہے۔

پاس کی کس طرح کام کرتی ہے
پاس کی دراصل صارف کے موبائل کے اندر موجود ’سیکیور انکلیو‘ میں محفوظ ہوتی ہے اور صرف بائیومیٹرک تصدیق یا ڈیوائس پاس کوڈ کے ذریعے ہی ایکٹیویٹ ہوتی ہے۔ اس طرح بیک اپ کی کلید کبھی فون سے باہر نہیں جاتی، جس سے سیکیورٹی اور سہولت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’دی ورج‘ کے مطابق واٹس ایپ نے اپنے موجودہ پاس کی سائن ان سسٹم کو بیک اپ کے ساتھ ضم کر کے مکمل طور پر پاس ورڈ فری سیکیورٹی ماڈل قائم کر دیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ فیچر اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے، جسے سیٹنگز میں Chats → Chat Backup کے آپشن میں فعال کیا جا سکتا ہے۔ اب نہ کوڈ یاد رکھنے کی ضرورت ہے، نہ کلید سنبھالنے کی — صرف ایک ٹچ یا نگاہ سے چیٹ بیک اپ محفوظ رہے گا۔

پس منظر
ماضی میں چیٹ بیک اپ سیکیورٹی کے لحاظ سے کمزور کڑی سمجھا جاتا تھا۔ ٹیلیگرام بیک اپ کو کلاؤڈ میں محفوظ کرتا ہے، آئی میسج انکرپشن کے باوجود آئی کلاؤڈ بیک اپ پر اضافی تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ سگنل نے بیک اپ کو کلاؤڈ میں محفوظ کرنے کے بجائے مقامی منتقلی کو ترجیح دی ہے۔

میٹا کا مقصد واٹس ایپ کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنا ہے جو محفوظ بیک اپ کے ساتھ ساتھ سہولت بھی فراہم کرے — اور یہ اقدام دنیا بھر کے اربوں صارفین کے لیے جدید ترین کرپٹوگرافک سیکیورٹی کو عام بنا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button