
خلیج اردو
ٹوکیو: جاپانی کار ساز کمپنی نسان کے حصص میں جمعے کے روز تقریباً آٹھ فیصد تک کمی دیکھی گئی، جب کمپنی نے رواں مالی سال کے اختتام تک 275 ارب ین (1.8 ارب ڈالر) کے آپریٹنگ نقصان کی پیش گوئی کی۔
نسان کے حصص ابتدائی تجارت میں 7.95 فیصد گر گئے تاہم بعد میں کمی پانچ فیصد کے قریب محدود ہو گئی۔ کمپنی نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں بھی اسے 30 ارب ین کے آپریٹنگ نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ مالی سال مارچ 2025 تک نسان کو 671 ارب ین کے خالص نقصان کا سامنا رہا، جس کے بعد کمپنی نے اپنے 20 ہزار ملازمین (تقریباً 15 فیصد افرادی قوت) کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔
مالیاتی افسر جیریمی پاپین کے مطابق ابتدائی چھ ماہ کے نتائج وقتی فوائد اور لاگت میں کمی کے اقدامات کا عکاس ہیں، تاہم سال کے باقی حصے میں مسابقتی دباؤ، سپلائی چین کے خطرات اور کاروباری سیزنل رجحانات برقرار رہیں گے۔
کمپنی نے اپنی سالانہ فروخت کا تخمینہ بھی کم کر دیا ہے، جو اب 2025-2026 کے لیے 11.7 ٹریلین ین رہ گیا ہے، جبکہ مئی میں اس کی پیش گوئی 12.5 ٹریلین ین تھی۔
نسان حالیہ برسوں میں متعدد مشکلات سے دوچار رہی ہے، جن میں سابق سی ای او کارلوس غصن کی 2018 میں گرفتاری اور ان کا ڈرامائی انداز میں جاپان سے فرار شامل ہے۔ جاپانی حریف کمپنی ہونڈا کے ساتھ مجوزہ انضمام بھی فروری میں ناکام ہو گیا، جب ہونڈا نے نسان کو اپنی ذیلی کمپنی بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔
ماہرین کے مطابق جاپان کی بڑی آٹو کمپنیوں میں نسان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی گاڑیوں پر عائد نئی محصولات کا سب سے زیادہ اثر پڑنے کا امکان ہے۔






