متحدہ عرب امارات

امارات میں شرح سود میں کمی، قرض اور سرمایہ کاری پر مثبت اثرات متوقع

خلیج اردو

دبئی: امریکی فیڈرل ریزرو اور متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے رواں سال دوسری بار بنیادی شرح سود میں 0.25 فیصد (25 بیسس پوائنٹس) کمی کر دی، جس کے بعد ملک میں قرضے، رہن اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر نمایاں اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

چونکہ درہم کی قدر امریکی ڈالر سے منسلک ہے، اس لیے یو اے ای کا مرکزی بینک فیڈ کے فیصلوں کی پیروی کرتا ہے۔ اس کمی کے بعد قرض لینا مزید سستا اور گھریلو اخراجات میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم امریکی فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول نے واضح کیا ہے کہ دسمبر میں مزید کمی یقینی نہیں، جس سے عالمی منڈیوں اور خلیجی معیشتوں میں بے یقینی کی فضا پیدا ہوئی ہے۔

اگرچہ شرح سود میں کمی سے متغیر شرح والے قرضوں اور ہاؤسنگ لونز کے ماہانہ اقساط میں معمولی کمی آئے گی، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نرمی کا سلسلہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ موجودہ صورتحال میں نئے قرض لینے والوں کے لیے بھی حالات بہتر ہیں کیونکہ بینک شرحوں میں نرمی دکھا رہے ہیں۔

شرح سود میں کمی کے نتیجے میں صارفین کی قوتِ خرید میں بہتری متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق رواں سال کے وسط سے دبئی میں صارفین کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر سفری سہولیات، الیکٹرانکس، اور رہائشی منصوبوں پر خرچ بڑھنے کے امکانات ہیں۔

دوسری جانب، کم شرح سود کے ماحول میں بینک ڈپازٹس پر منافع میں کمی کا امکان ہے، جس پر ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ سرمایہ کار اپنی بچت کو اسٹاک، صکوک یا رئیل اسٹیٹ میں منتقل کرنے پر غور کریں۔

کریڈٹ کارڈ رکھنے والوں کو بھی معمولی ریلیف ملنے کی توقع ہے، تاہم بچت زیادہ نہیں ہوگی۔ بینک عام طور پر نئی شرحوں کے مطابق ایڈجسٹمنٹ میں ایک سے دو بلنگ سائیکل لیتے ہیں۔

ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں شرح سود میں کمی کے بعد خریداروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دبئی میں تعمیراتی ادارے نئی اسکیموں کے اجرا میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جبکہ ماہرین کے مطابق اگر شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رہی تو 2026 کے اوائل تک جائیداد کی خرید و فروخت میں اضافہ متوقع ہے۔

فیڈ کے حالیہ اجلاس نے اندرونی اختلافات کو بھی نمایاں کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کی شرحوں کا تعین آسان نہیں ہوگا۔ معیشت کی سست رفتاری، مہنگائی کے دباؤ اور امریکی حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث فیڈ کی آئندہ پالیسی سمت غیر یقینی ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button