
خلیج اردو
کیف: روس نے یوکرین کے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے جن میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں سے توانائی کے نظام کو شدید نقصان پہنچا اور کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی افواج نے نو مختلف خطوں میں شہری آبادی اور توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جن میں دارالحکومت کیف بھی شامل ہے۔ زیلنسکی نے عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ روس پر مزید پابندیاں عائد کریں تاکہ ماسکو کی جارحیت کو روکا جا سکے۔
یوکرین کی سب سے بڑی نجی توانائی کمپنی DTEK نے تصدیق کی کہ اس کے متعدد پاور پلانٹس کو نقصان پہنچا ہے۔ کمپنی کے سربراہ میکسم ٹمچینکو نے کہا کہ ’’یہ سردیوں میں بجلی کی فراہمی کو برقرار رکھنے کی ہماری کوششوں پر ایک شدید ضرب ہے۔‘‘
مغربی خطے لیوِف میں حکام نے بتایا کہ دو توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ وزارت توانائی کے مطابق بڑی تعداد میں صارفین بجلی سے محروم ہیں۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روسی حملے میں 52 میزائل اور 653 ڈرون استعمال کیے گئے، جن میں سے 623 کو مار گرایا گیا۔ یہ رواں سال یوکرین کے توانائی نیٹ ورک پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوب مشرقی شہر زاپوریزہیا میں دو افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے جن میں چھ بچے شامل ہیں۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہدف یوکرین کی عسکری، توانائی اور فضائی تنصیبات تھیں۔ روس نے مزید دعویٰ کیا کہ اس نے خارکیف کے علاقے میں سادووے اور زاپوریزہیا کے علاقے میں کراسنوگیرسکے نامی دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد ہر سردیوں میں یوکرینی بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث کیف کو بجلی کی راشننگ اور درآمدات پر انحصار کرنا پڑا۔
دوسری طرف، یوکرین نے بھی حالیہ مہینوں میں روسی آئل ریفائنریز اور توانائی تنصیبات پر جوابی حملے تیز کر دیے ہیں۔







