سٹوریمتحدہ عرب امارات

یو اے ای میں نابینا بھارتی شہری کی دیکھ بھال کرنے والے پاکستانی سے ملیے

 

خلیج اردو آن لائن:

انڈیا اور پاکستان کی دشمنی کے آپ  نے بہت قصے سن رکھے ہوں گے۔ لیکن ہم آج آپ کو دوستی کی ایک بے مثال داستان سناتے ہیں۔ اور یہ سچی داستان اس وقت متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر رقم کی جا رہی ہے۔

تو ملیے متحدہ عرب امارات میں مقیم دو ایسے دوستوں کو جن میں سے ایک پاکستانی ہے جبکہ دوسرا ہندوستانی۔ بھارت سے تعلق رکھنے 63 سالہ باشندے کی بینائی چلی گئی ہے۔ لیکن پردیس میں انکی دیکھ بھال 36 سالہ محمد اسد رضاکارانہ طور پر کر رہے ہیں۔

محمد اسد اور بھارتی شہری تھومس گزشتہ 4 سال سے ایک کمرے میں اکٹھے رہ رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے تھومس کو ہارٹ اٹیک آنے کی وجہ سے اسکی بینائی چلی گئی۔ جس کے بعد وہ بے سہارا ہوگئے۔ لیکن محمد اسد نے تھومس کی مدد کرنے اور انکی دیکھ بھال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور گزشتہ 18 ماہ سے نابینا تھومس کی ہر قسم کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ محمد اسد تھومس کو انکل بلاتے ہیں۔

تھومس نے نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ” میں 30 سال تک سعودی عرب میں کام کرنے کے بعد 8 سال پہلے دبئی آیا تھا۔ یہاں میں نے ایک چھوٹا کاروبار شروع کیا لیکن وہ چل نہیں پایا۔جس کے بعد مجھے چھ ماہ کے لیے ایک سول کیس میں جیل جانا پڑا۔ وہ میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا۔ تب مجھے فالج کا حملہ جس میری بینائی بھی چلی گئی اور میں چلنے پھرنے سے معذور بھی ہوگیا۔ میں باتھ روم تک نہیں جا سکتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسد میرے لیے فرشتہ بن کر آیا”۔

اسد نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ "میں دیکھتا تھا کہ کمرے میں موجود دیگر لوگ اپنی خوش گپیوں یا فون پر بات کرنے میں مصروف ہوتے تھے لیکن تھومس اپنے بیڈ پر اکیلا بیٹھا رہتا تھا۔ لیکن کبھی کبھار روتا بھی رہتا تھا۔ میں اس سے اسکے مسائل کے بارے میں جاننے کی کوشش لیکن وہ خاموش رہتا تھا۔ تب میں نے اسکی روزانہ کے کاموں میں مدد کرنی شروع کردی۔ اور ویسے بھی انکل مجھے میرے مرحوم باپ کی یاد دلاتے ہیں۔ اور مجھے انہیں اس طرح سے تکلیف میں دیکھ کر دکھ ہوتا تھا۔ دوسروں کی مدد کرنا انسانیت کی بنیاد اور میرے والدین نے بھی مجھے یہی سیکھایا ہے کہ کسی بھی مدد کرو”۔

اس ایک کرین آپریٹر ہیں وہ شام 5 بجے کام پر جاتے ہیں لیکن کام پر جانے سے پہلے وہ تھومس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ وہ تھومس کو باتھ روم لیجاتے ہیں، انہیں کھانا دیتے ہیں اور پھر ضرورت کی اشیاء انکے بیڈ کے پاس رکھ کر کام پر چلے جاتے ہیں۔

اور جب صبح 5 بجے کام سے واپس آتے ہیں تو سب سے پہلے تھومس کو باتھ روم میں لے کر جاتے ہیں۔ اور وہ ایسا گزشتہ 18ماہ سے کر رہے ہیں۔

اسد کا کہنا ہے کہ وہ تھومس کو اپنے ملک واپس جاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ تھومس کے خلاف سول کیس چل رہا ہے لہذا وہ فل حال واپس اپنے ملک نہیں جا سکتا۔ تاہم، کچھ رضاکار انکے اس کیس کو حل کروانے کے کوشش رہے ہیں۔ اور امید ہے کہ اس کے انکل تھومس جلد اپنے جانے کے قابل ہوجائیں گے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button