
خلیج اردو
سیرا لیون میں انسانی اعضا کے ذریعے جادوئی رسومات کرنے والے عاملین کے حوالے سے خطرناک واقعات سامنے آئے ہیں۔ چار سال قبل مبینہ طور پر کالے جادو کے لیے قتل کیے جانے والے 11 سالہ بچے پاپائیو کی والدہ آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ بی بی سی افریقہ آئی سے گفتگو میں والدہ سلے کالاکو نے بتایا کہ ان کا بیٹا مارکیٹ میں مچھلی فروخت کرنے گیا تھا مگر واپس نہیں آیا۔ اہلخانہ نے دو ہفتے تک تلاش کی اور آخرکار مسخ شدہ لاش ایک کنویں سے برآمد ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے آپریشنز کے دوران 2025 میں روزانہ اوسطاً 208 آپریشنز ہوئے۔ بلوچستان میں زیادہ آپریشن ہوئے، لیکن ہلاکتیں زیادہ تر خیبرپختونخواہ میں ہوئیں۔ دہشت گردی کے 4,373 واقعات میں 1,667 دہشت گرد ہلاک اور 1,073 افراد شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 584، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 133 جوان اور 356 شہری شامل ہیں۔
سیرا لیون میں مقامی روایت اور ثقافت کے باعث جادوئی رسومات کے لیے انسانی اعضا کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ عاملین، جنہیں مقامی زبان میں جوجو کہا جاتا ہے، اپنے کلائنٹس سے خوشحالی اور طاقت کے لیے انسانی اعضا استعمال کرنے کے وعدے کرتے ہیں۔ بی بی سی کی ٹیم دو ایسے عاملین تک پہنچی جنہوں نے انسانی اعضا کے حصول اور جادوئی رسومات کے لیے اپنے نیٹ ورک کے بارے میں دعویٰ کیا۔
تحقیقات کے دوران ایک عامل، کانو، نے اپنے ڈیرے میں انسانی کھوپڑی، اعضا اور خون کے گڑھے دکھائے۔ کانو کے مطابق بڑے سردار طاقت حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں اور وہ ان کی خواہشات کے مطابق انسانی اعضا فراہم کرتا ہے۔ اُس نے خاتون کے اعضا کے بدلے تین ہزار امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔
ادرا نامی دوسرے سپلائر نے دعویٰ کیا کہ وہ جسم کے کسی بھی حصے پر کام کر سکتے ہیں اور ان کے ساتھ تقریباً 250 افراد اس کام میں ملوث ہیں۔ ان کے ذریعے کئی شکار کیے جاتے ہیں، اور پولیس نے ان کے ڈیرے پر چھاپہ مار کر انسانی ہڈیاں، بال اور دیگر شواہد برآمد کیے۔ ادرا اور دو دیگر افراد کو گرفتار کر کے ان کے خلاف جادوئی رسومات اور قتل میں استعمال ہونے والے روایتی ہتھیار رکھنے کا الزام عائد کیا گیا، تاہم تحقیقات ابھی زیر التوا ہیں۔
سیرا لیون میں بدترین خانہ جنگی اور ایبولا وائرس کے بعد، مقامی لوگ اکثر دیسی حکیموں اور عاملین پر انحصار کرتے ہیں، جو روحانیت اور علاج کے دعوے کرتے ہیں۔ روایتی حکیموں کا کہنا ہے کہ کانو جیسے عاملین اس پیشے کا نام خراب کر رہے ہیں اور طاقت اور پیسے کی لت میں پڑے افراد جادوئی رسومات کے لیے لوگوں کو قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
مقامی پولیس بھی اکثر اس نوعیت کے کیسز میں تحفظ کے خوف سے آگے نہیں بڑھتی، جس سے غریب برادریوں میں خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے۔ فاطمہ کونتیہ اور پاپائیو کے کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی اعضا کے ذریعے جادوئی رسومات کی یہ روایات عام اور خطرناک ہیں، اور انصاف کے لیے قانونی کارروائی اکثر ناکافی رہتی ہے۔
BBC URDU; SOURCE







