متحدہ عرب اماراتٹپس

سابقہ تعلقات پر سوشل میڈیا پر بھڑاس نکالنا؟ ماہرین نے 5 لاکھ درہم تک ہتک عزت جرمانے کا انتباہ دے دیا

خلیج اردو
دبئی: متحدہ عرب امارات میں بڑھتے ہوئے رجحان کے تحت لوگ اپنی علیحدگی یا طلاق کے ذاتی معاملات سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، تاہم قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پوسٹس نہ صرف مجرمانہ دائرہ اختیار میں آ سکتی ہیں بلکہ یہ نئی نسل میں شادی اور تعلقات سے اجتناب کا سبب بھی بن رہی ہیں۔

بین الاقوامی فیملی لا ایکسپرٹ اور ایکسپیٹریئیٹ لا کے پارٹنر، بائرن جیمز نے وضاحت کی کہ متحدہ عرب امارات میں ہتک عزت اور رازداری کی خلاف ورزی کو فوجداری جرم سمجھا جاتا ہے، جس پر وفاقی فرمان قانون نمبر 34 برائے 2021 (افواہوں اور سائبر کرائم کے انسداد) کے تحت سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔

بائرن جیمز کے مطابق، "متحدہ عرب امارات کا قانونی نظام فرد کی عزت، شہرت اور خاندانی رازداری کے تحفظ کو عوامی مفاد کا معاملہ سمجھتا ہے۔ یہاں حقیقت پر مبنی معلومات بھی اگر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچائیں تو ہتک عزت کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔”

آن لائن مواد کی اشاعت جرم کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ بائرن کا کہنا ہے کہ "سوشل میڈیا، واٹس ایپ، ای میل یا بلاگز کے ذریعے کوئی بھی توہین آمیز مواد شیئر کرنا سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے، جس پر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ، قید اور غیر ملکیوں کے لیے ملک بدری کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔”

اسی قانون کے تحت رازداری کی خلاف ورزی پر بھی سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ کسی کی اجازت کے بغیر ذاتی معلومات، تصاویر، وائس نوٹس، نجی پیغامات یا اسکرین شاٹس شیئر کرنے پر مجرمانہ مقدمہ دائر ہو سکتا ہے، چاہے دوسرے فریق کا نام نہ لیا گیا ہو۔ اگر سیاق و سباق یا جاننے والوں کے ذریعے کسی کی شناخت ممکن ہو جائے تو قانون لاگو ہو جاتا ہے۔

بائرن کے مطابق، "ناجائز نیت کی بھی ضرورت نہیں، طلاق یا علیحدگی کے دوران کسی کی نجی معلومات یا جذباتی طور پر تکلیف دہ مواد پوسٹ کرنا قانونی کارروائی کا باعث بن سکتا ہے۔”

جذباتی قیمت

شمسہ (فرضی نام)، دبئی کی 33 سالہ رہائشی، کہتی ہیں کہ وہ کبھی ان جوڑوں کی مداح تھیں جو اپنے تعلقات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے تھے، لیکن جب انہیں دیکھا کہ وہی جوڑے اپنی علیحدگی بھی عوامی کر رہے ہیں تو ان کا نظریہ بدل گیا۔ شمسہ کے مطابق، "ایسی پوسٹس سے تعلقات کا تصور کمزور ہو رہا ہے۔ جب جو لوگ ایک وقت میں ایک دوسرے کے عاشق دکھائی دیتے تھے وہی ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر الزامات لگاتے ہیں تو دیرپا رشتوں کا تصور غیر مستحکم محسوس ہوتا ہے۔”

لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟

یو اے ای کی ماہر نفسیات رحاب الحمادی نے کہا کہ دکھ یا صدمے کے دوران جذباتی کنٹرول اکثر ٹوٹ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ اپنا مؤقف بیان کرنے یا توثیق حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "سوشل میڈیا وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے، لیکن قانونی کارروائی یا عوامی ردعمل کے طویل المدتی اثرات زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی طور پر غصہ نکالنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے، خاص طور پر اگر بچوں کی تحویل جیسے مقدمات زیر سماعت ہوں۔

غیر واضح پوسٹس بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں

بائرن نے وضاحت کی کہ بالواسطہ اشارے یا مبہم پوسٹس بھی قانونی حد عبور کر سکتی ہیں۔ اگر مشترکہ فالوورز کسی اشارے یا تنقیدی پوسٹ سے متعلقہ شخص کی شناخت کر سکتے ہیں اور اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے تو وہ پوسٹ بھی ہتک عزت کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

مثال کے طور پر، "کچھ لوگ عدالت میں جھوٹ بول کر خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں” جیسا جملہ اگر کسی معروف طلاق کیس کے دوران پوسٹ کیا جائے تو اسے مخصوص فرد کے خلاف سمجھا جا سکتا ہے۔ بائرن نے کہا کہ "عدالتیں صرف مواد نہیں بلکہ اس کے سیاق و سباق اور اثرات کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔”

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button