
خلیج اردو
13 نومبر 2021
کرونا وائرس کے بعد جہاں یہ فائدہ ہوا کہ ملازمین گھروں سے کام کرپارہے ہیں وہاں یہ نقصان بھی ہوا کہ اب جب ملازمین واپس دفاتر میں لوٹ آئے ہیں تو انہیں چھٹی کے بعد بھی دفاتر سے کام کیلئے کال آتی ہے یا احکامات آتے ہیں۔
پورتگال نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ ایک قانون پاس کیا گیا ہے جس میں بوس یا افسران کو منع کیا گیا ہے کہ وہ چھٹی ہو جانے کے بعد ملازمین کو کال کریں۔کام کے اوقات کے بعد اپنے ملازمین کو کال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
اس نئے قانون میں ملازمین کو سکون کا حق دیا گیا ہے۔ ملازمین کی سماجی اور دفتری زندگی کے درمیان توازن برقرا رکھنے کیلئے انہیں دفتر اوقات کے بعد نجی معاملات زندگی کیلئے مکمل آزادی دی گئی ہے۔
وہ آجر جو ان قوانین سے روگردانی کر لیتے ہیں اور جس کی کمپنی میں دس یا اس سے زیادہ ملازمین ہوں ، انہیں جرمانہ کیا جائے گا اگر وہ اپنے ملازمین کو دفتری اوقات کے بعد کال ، ایس ایم ایس یا ایم میل کرتے ہیں۔
پورتگال وہ پہلا ملک نہیں جو اپنے ملازمین کو دفتر اوقات کے بعد کال یا رابطہ کرنے سے روکنے والے قوانین بناتا ہے۔2016 میں فرانس نے ایسے ہی ایک قانون بنایا تھا جس کا 2017 میں اطلاق ہوا تھا۔
اس قانون کے مطابق وہ کمپنیاں جن کے ملازمین کی تعداد 50 یا اس سے زیادہ تھی ، ان کیلئے لازمی تھا کہ ان کے ملازمین دفتری اوقات کار کے بعد دفتر کی جانب سے آنے والے کال یا ای میل کا جواب دینے کے پابندی نہیں تھے۔
اس قانون کا مقصد ملازمین کو دفتر سے چھٹی کے بعد کے وقت اپنی زندگی میں سکون سے رہنے کا حق دینا تھا۔
فرانس میں عام طور پر ہفتے میں 35 گھنٹے کام کیلئے قانون ہے اور یہ قانون 2000 سے نافزالعمل ہے۔
Source : Khaleej Times







