
خلیج اردو
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا حتمی اعلان 4 نومبر کو متوقع ہے، جبکہ ووٹنگ ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ابتدائی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں، جن میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے اقتدار کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔
اسرائیل میں ووٹنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہو کر رات 10 بجے ختم ہوتی ہے۔ پولنگ ختم ہونے کے بعد اسرائیلی ٹی وی چینلز ایگزٹ پولز جاری کریں گے، جن سے انتخابی نتائج کے ابتدائی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ تاہم اگر کسی جماعت یا جماعتوں کے اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو حکومت سازی کی صورتحال سامنے آنے میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے انتخابات متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے قومی ووٹوں کا کم از کم 3.25 فیصد حاصل کرنا ضروری ہے۔ تقریباً ایک درجن جماعتوں کے مقررہ حد عبور کرنے کا امکان انتخابی نتائج اور نشستوں کی تقسیم کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ پارلیمانی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ نامزد امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے 42 دن تک کا وقت دیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل میں اب تک کسی ایک جماعت نے پارلیمنٹ میں تنہا حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں کی، اس لیے حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد ضروری ہوتا ہے۔ مذاکرات میں چھوٹی جماعتوں کی حمایت بھی فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
اگر نامزد امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہے تو دوسرے امیدواروں کو موقع دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی امیدوار حکومت تشکیل نہ دے سکے تو نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، جبکہ اس دوران موجودہ کابینہ عبوری حکومت کے طور پر کام جاری رکھے گی۔







