
خلیج اردو
دبئی میں کینیا سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ سنگل فادر فیلکس شیکولی میٹ نے سکیورٹی گارڈ سے کاروباری شخصیت بننے تک کا سفر محنت، مشکلات اور عزم کے ساتھ طے کیا۔ آج وہ یو اے ای ننجا واریر کے نام سے فٹنس کاروبار چلا رہے ہیں، جس میں 10 افراد ملازمت کرتے ہیں، جبکہ ان کی دونوں بیٹیاں بھی دبئی میں ان کے ساتھ رہ رہی ہیں اور کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
فیلکس 2017 کے موسم گرما میں پہلی مرتبہ دبئی پہنچے تو شدید گرمی نے انہیں حیران کر دیا۔ اگلے ہی روز انہوں نے ایک پارکنگ کے تہہ خانے میں سکیورٹی گارڈ کی ملازمت شروع کر دی۔ کینیا میں ان کا اپنا کاروبار تھا، لیکن آمدنی صرف روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی تھی اور بچت نہیں ہو پاتی تھی۔ بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے انہوں نے اپنا سب کچھ فروخت کیا، قرض لیا اور اپنی بیٹیوں کو رشتہ دار کے پاس چھوڑ کر متحدہ عرب امارات آ گئے۔
رات کی ڈیوٹی کے بعد فیلکس دوست کی ادھار لی ہوئی سائیکل پر محلے میں چکر لگاتے تھے۔ ایک روز ان کی ملاقات امارات سائیکلنگ کلب کے ایک رکن سے ہوئی اور انہوں نے کلب کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ابتدا میں وہ پرانی سائیکل اور بغیر یونیفارم کے دیگر کھلاڑیوں سے پیچھے رہتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ کلب کے ارکان ان کے دوست بن گئے۔ انہوں نے فیلکس کو سائیکل، یونیفارم اور تربیت کے لیے سہولت فراہم کی، جس سے انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملا۔
بعد ازاں فیلکس نے سکیورٹی گارڈ کی ملازمت چھوڑ کر ایک اسپورٹس اکیڈمی میں کام شروع کیا، جہاں انہوں نے امریکی ٹی وی شو سے متاثر ہو کر ننجا واریر طرز کی رکاوٹوں پر مبنی تربیت متعارف کرائی۔ تاہم، نئی کمپنی کی جانب سے بروقت ویزا پراسیس نہ ہونے کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دو ہفتے جیل میں بھی گزارنے پڑے۔ بعد میں ان کے آجر نے جرمانہ ادا کیا اور ویزا مکمل کرایا۔
اکیڈمی میں چار سال کام کرنے کے دوران فیلکس نے تربیت کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی۔ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم کی جانب سے گَو گیمز، جسے اب دبئی گیمز کہا جاتا ہے، کے اعلان کے بعد ان کے ننجا واریر کورس پر دبئی پولیس، بلدیہ اور آر ٹی اے سمیت مختلف سرکاری اداروں کی ٹیمیں تربیت کے لیے آنے لگیں۔
ملازمت کے پانچ سال بعد فیلکس نے اپنے آجر سے درخواست کی کہ وطن واپسی کے فضائی ٹکٹ کے بجائے ان کی بیٹیوں کو دبئی آنے کا موقع دیا جائے۔ بیٹیاں ایک ماہ کے لیے آئیں، لیکن واپسی کے وقت جدائی نے انہیں مزید پُرعزم کر دیا کہ وہ دونوں کو مستقل طور پر اپنے پاس بلائیں گے۔ کچھ عرصے بعد ملازمت ختم ہونے اور ویزا منسوخ ہونے کے باعث انہیں ایک ماہ کے اندر نئی ملازمت تلاش کرنا تھی۔ ملازمت نہ ملنے پر انہوں نے سائیکلنگ، ذاتی فٹنس اور دیگر کھیلوں کی کوچنگ شروع کر دی۔
کوچنگ کی بڑھتی ہوئی طلب نے ان کے لیے کاروبار کے دروازے کھول دیے۔ انہوں نے بتدریج اپنا کاروبار رجسٹر کرایا اور یو اے ای ننجا واریر قائم کیا، جہاں سائیکلنگ، اسکیٹنگ اور مختلف رکاوٹوں کو عبور کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ انہوں نے چین سے قسطوں پر تربیتی آلات خریدے اور ضرورت کے مطابق عملہ بھرتی کیا۔ آج ان کے کاروبار میں 10 افراد کام کرتے ہیں۔
فیلکس نے اپنی چھوٹی بیٹی کو پانچ سال کی عمر میں دبئی بلایا اور ایک سال تک گھر پر تعلیم دی۔ بعد میں بڑی بیٹی بھی ان کے پاس آ گئی۔ مالی مشکلات کے دوران جب سکول کی فیس ادا کرنا ممکن نہ ہوتا تو وہ دبئی کینال کے قریب ادھار کتابوں سے پڑھائی کرتے تھے۔ گرمیوں میں دونوں بیٹیاں پلاسٹک کی بوتلیں جمع کر کے شاپنگ مالز کی ری سائیکلنگ مشینوں پر جمع کراتیں اور ملنے والے پوائنٹس سے گاڑی کے لیے ایندھن حاصل کرنے میں مدد دیتیں۔
آج فیلکس کی دونوں بیٹیاں سکول میں زیر تعلیم ہیں اور کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ چھوٹی بیٹی دوڑ، فٹ بال اور تیراکی میں دلچسپی رکھتی ہے، جبکہ بڑی بیٹی جیولین تھرو کرتی ہے۔ فیلکس روزانہ چار گھنٹے سے زیادہ نہیں سوتے اور کوچنگ کے بعد گھر آ کر اگلے دن کے کھانے اور بچوں کے لنچ باکس تیار کرتے ہیں۔
فیلکس کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد اپنی بیٹیوں کو محفوظ زندگی، معیاری تعلیم اور کھیلوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں ان مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جن سے وہ خود گزرے ہیں۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں محنت کرنے والوں کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں۔







