
خلیج اردو
کری ایٹین کا استعمال پہلے زیادہ تر باڈی بلڈرز اور جم جانے والے افراد تک محدود سمجھا جاتا تھا تاہم اب خواتین میں بھی اس کے استعمال میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ خواتین اسے طاقت بڑھانے، ورزش کی کارکردگی بہتر بنانے اور جسمانی بحالی میں مدد کے لیے استعمال کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
یو اے ای کے ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہر خاتون کے لیے کری ایٹین کا استعمال ضروری نہیں۔ صحت مند افراد میں اس کے فوائد ہوسکتے ہیں تاہم اسے صرف اس لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ یہ مقبول ہے یا کسی دوسرے شخص کو اس سے فائدہ ہوا ہے۔
کری ایٹین قدرتی طور پر انسانی جسم میں بنتا ہے جبکہ گوشت اور مچھلی سے بھی محدود مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تر پٹھوں میں ذخیرہ ہوتا ہے اور مختصر وقت کی شدید جسمانی سرگرمی کے دوران فوری توانائی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سپلیمنٹس میں کری ایٹین مونوہائیڈریٹ سب سے زیادہ استعمال ہونے والی قسم ہے۔
میڈ کیئر رائل اسپیشلٹی ہسپتال القصیص کی اسپیشلسٹ انٹرنل میڈیسن ڈاکٹر ایمان عبدالقادر الابار کے مطابق کری ایٹین صرف پٹھے بنانے یا جم کی کارکردگی بہتر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین بھی کری ایٹین استعمال کرنے پر غور کرسکتی ہیں خاص طور پر اگر مقصد پٹھوں کی طاقت بڑھانا، جسمانی کارکردگی بہتر بنانا اور ورزش کے بعد ریکوری میں مدد حاصل کرنا ہو۔ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی مقدار برقرار رکھنا مجموعی صحت کے لیے مزید اہم ہوجاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کری ایٹین کے ممکنہ فوائد صرف پٹھوں تک محدود نہیں۔ توانائی کے نظام اور دماغی کارکردگی پر اس کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے تاہم ان شعبوں میں مزید تحقیق جاری ہے۔
میڈ کیئر شیخ صقر القاسمی ہسپتال کی کلینیکل ڈائٹیشن میلانی ڈی سوزا کے مطابق خواتین کی غذائی ضروریات تولیدی عمر، حمل، دودھ پلانے اور مینوپاز کے دوران تبدیل ہوسکتی ہیں اور ہر فرد کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کری ایٹین استعمال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ فرد کی صحت، غذائی ضروریات اور استعمال کی وجہ کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ اسے صرف مقبولیت یا کسی دوسرے شخص کے تجربے کی بنیاد پر شروع کرنا مناسب نہیں۔
ماہرین کے مطابق کری ایٹین شروع کرنے سے پہلے خوراک، طرز زندگی، موجودہ طبی مسائل، استعمال ہونے والی ادویات اور دیگر سپلیمنٹس کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کری ایٹین متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی کا متبادل نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق اس کا اضافی حصہ ہوسکتا ہے۔
روزانہ کتنی مقدار محفوظ ہے؟
ماہرین کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے کری ایٹین مونوہائیڈریٹ کی عام اور اچھی طرح تحقیق شدہ مقدار روزانہ 3 سے 5 گرام ہے۔ روزانہ باقاعدگی سے استعمال کرنا مخصوص وقت پر لینے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔
کچھ افراد ابتدا میں لوڈنگ فیز کے طور پر تقریباً 20 گرام روزانہ لیتے ہیں جسے مختلف چھوٹی مقداروں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاہم یہ طریقہ لازمی نہیں اور زیادہ تر افراد کے لیے روزانہ 3 سے 5 گرام استعمال کرکے بھی جسم میں کری ایٹین کی مقدار بتدریج بڑھائی جاسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کے لیے ایک ہی مقدار موزوں نہیں ہوسکتی کیونکہ محفوظ مقدار کا انحصار عمر، صحت، خوراک، استعمال کی وجہ، دیگر ادویات اور سپلیمنٹس سمیت مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔
ممکنہ مضر اثرات
صحت مند بالغ افراد میں تجویز کردہ مقدار کے مطابق کری ایٹین عموماً برداشت کرلیا جاتا ہے تاہم بعض افراد کو ابتدا میں پیٹ پھولنے، ہاضمے میں معمولی تکلیف یا جسمانی وزن میں اضافے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ وزن میں اضافہ عموماً پٹھوں میں پانی ذخیرہ ہونے کے باعث ہوسکتا ہے۔
حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، گردوں کے مرض میں مبتلا افراد اور دیگر اہم طبی مسائل رکھنے والے افراد کو کری ایٹین شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین نے ایسی ادویات یا متعدد سپلیمنٹس استعمال کرنے والے افراد کو بھی احتیاط کا مشورہ دیا ہے جبکہ کری ایٹین خریدتے وقت معروف کمپنی کی ایسی پروڈکٹ کا انتخاب کرنے پر زور دیا گیا ہے جس پر اجزا اور معیار سے متعلق واضح معلومات درج ہوں







