متحدہ عرب امارات

قطر کا ایران کو دوٹوک جواب، حملوں کے جواز کی تردید، شہریوں اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کا ریکارڈ اقوام متحدہ میں پیش

خلیج اردو
قطر نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کو جائز قرار دینے سے متعلق ایران کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے دلائل کی بین الاقوامی قانون میں کوئی قانونی بنیاد نہیں اور یہ ایران کو اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرسکتے۔

قطر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ارسال کردہ دو خطوط میں مؤقف اختیار کیا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے ایرانی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔

قطر کی اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ شیخہ عالیہ احمد بن سیف آل ثانی نے یہ خطوط ایران کے قائم مقام ناظم الامور کی جانب سے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے مراسلے کے جواب میں پیش کیے۔

قطر نے ایران کا دفاعِ خود کا مؤقف مسترد کردیا

ایران نے اپنے اقدامات کے جواز کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاعِ خود کے حق کا حوالہ دیا تھا تاہم قطر نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دفاعِ خود کا حق استعمال کرنے کے لیے ضروری شرائط پوری نہیں ہوئیں۔

قطر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کا حوالہ بھی دیا جس میں ایران کے حملوں کی مذمت اور مسلح حملوں کے خلاف ریاستوں کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی ہے۔

دوحہ کے مطابق ایران کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی 1974 کی جارحیت کی تعریف کا حوالہ دینا بھی اس کے مؤقف کو کمزور کرتا ہے کیونکہ اس تعریف میں کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر بمباری، ہتھیاروں کا استعمال اور بندرگاہوں یا ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

قطر کا کہنا ہے کہ یہ دفعات ایران کے قطر پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متاثر کرنے والی کارروائیوں پر بھی لاگو ہوتی ہیں۔

قطر نے ایرانی دعووں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر قرار دے دیا

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کی جانب سے ایک قطری سیکیورٹی جائزے کے منتخب حصے کو بطور دلیل پیش کرنے پر بھی اعتراض کیا۔

ان کے مطابق ایران نے جس دستاویز کا حوالہ دیا وہ آئی ٹی یو کی پلینی پوٹینشیری کانفرنس کے لیے تیار کیا گیا سیکیورٹی اور حفاظتی خطرات کا جائزہ تھا۔ یہ حملوں کا مکمل حقائق پر مبنی ریکارڈ یا قانونی تجزیہ نہیں تھا۔

الانصاری کے مطابق دستاویز سے صرف ایک جملہ نکال کر وسیع تر تناظر کو نظرانداز کرنا گمراہ کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی دستاویز میں قطر کے اندر براہ راست حملوں کا ذکر بھی موجود ہے جن میں 18 مارچ کو راس لفان کی گیس تنصیبات پر حملہ اور قطری فضائی حدود کی عارضی بندش شامل ہے۔

قطر: شہریوں کو پہنچنے والا نقصان مکمل طور پر ریکارڈ پر ہے

قطری ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ میں جمع کرایا گیا قطر کا سرکاری ریکارڈ ایرانی حملوں اور ان کے اثرات کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔

قطر کے مطابق یکم مارچ کو اقوام متحدہ کو بھیجے گئے خط میں شہری، تجارتی اور رہائشی علاقوں کے اوپر سے ایرانی میزائل گزرنے اور حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اور 16 افراد کے زخمی ہونے کی تفصیلات درج کی گئی تھیں۔

20 جولائی کے ایک اور خط میں مزید حملوں کی تفصیلات پیش کی گئیں جن میں ایک بچے سمیت 3 افراد زخمی ہوئے۔

قطر نے کہا کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے روک لیا جانا حملوں کی سنگینی کو کم نہیں کرتا اور نہ ہی ذمہ داروں کو جواب دہی سے بری کرتا ہے۔

قطر کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی پر زور

قطر نے ایران سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کے احترام کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

دوحہ نے ایران کے ان دعووں کو مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کا کوئی جواز موجود ہے۔ قطر کے مطابق بین الاقوامی بحری راستے میں رکاوٹ ڈالنا، تجارتی جہازوں کو دھمکانا یا ان پر حملہ کرنا دفاعِ خود کے حق کے نام پر جائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔

قطر نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں بین الاقوامی قانون کے تحت تجارتی اور ٹرانسپورٹ جہازوں کے حقوق اور حملوں کے خلاف ریاستوں کے اپنے بحری جہازوں کے دفاع کے حق کی توثیق کی گئی ہے۔

قطر نے ایران سے ہرجانے کا مطالبہ کردیا

قطر نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد میں رہائشی علاقوں اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں، شہری ہلاکتوں اور عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کی مذمت کی گئی ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے مطابق ایران اپنے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہے اور اسے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیے۔

قطر نے کہا کہ وہ اب بھی نقصانات کا جائزہ لینے اور انہیں دستاویزی شکل دینے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور ہرجانے کے مطالبے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوحہ نے ایران کی جانب سے قطر سے ہرجانے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا اور کہا کہ یہ حملوں کی ذمہ داری الٹا قطر پر ڈالنے کی کوشش ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قطر علاقائی تنازع کا فریق نہیں ہے۔ ان کے مطابق قطری سرزمین پر حملے بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہیں اور کسی منتخب اقتباس یا من مانی تشریح سے اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

قطر نے کہا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button